سی پیک فیز ٹو: اعتماد کی بحالی کے لیے پاکستانی قیادت کا دورہ چین

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چین کے دورے سے واپسی پر اتوار کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ ’چین کا اپنے اوپر اعتماد بحال کر رہے ہیں تاکہ سی پیک کا فیز ٹو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔‘

30 جولائی 2023 کو لاہور میں موٹر سائیکل پر سوار ایک خاندان چینی نائب وزیر اعظم کے دورے سے قبل سڑک پر نصب چین اور پاکستان کے قومی پرچموں کی شکل میں سجاوٹ کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان چین پر اپنا اعتماد بحال کر رہا ہے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اگلے مرحلے پر کام آگے بڑھ سکے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چین کے دورے سے واپسی پر اتوار کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ ’چین کا اپنے اوپر اعتماد بحال کر رہے ہیں تاکہ سی پیک کا فیز ٹو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔‘

اسی ضمن میں پہلے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور معاون خصوصی امور خارجہ طارق فاطمی نے چین کا دورہ کیا اور اب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین کے دورے پر ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا دورہ چین

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار چین کے دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں جہاں وہ پانچویں پاک چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کریں گے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ’نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار 13 سے 16 مئی تک بیجنگ، چین کا دورہ کریں گے۔

’نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ پانچویں پاک چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں گے جس میں پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔‘

نائب وزیراعظم چینی رہنماؤں، اعلیٰ حکام اور سی پیک کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے  تناظر میں ممتاز کاروباری اداروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو مہیا معلومات کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ چین کا دورہ کریں گے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور وزیر خارجہ کے چین کے دورے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا چین کا حالیہ دورہ

رواں ماہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور معاون خصوصی امور خارجہ طارق فاطمی نے چین کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔

ایئرپورٹ پر اس معاملے پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ ’سی پیک کے پہلے مرحلے کے تحت 25 ارب ڈالر کے منصوبے پاکستان میں ابھی زیرتکمیل ہیں۔‘

دوسرے مرحلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے پیرامیٹرز کی وضاحت کے لیے چینی ہم منصبوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس میں تین شعبوں یعنی زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی میں کام کیا جائے گا۔‘

کیا سی پیک پر کام رک چکا ہے یا سست روی کا شکار ہے؟

سرکاری معلومات کے مطابق سی پیک کے تحت 840 کلومیٹر طویل موٹرویز ابھی تک مکمل ہو چکی ہیں۔

سی پیک کے 10 سالوں میں پانچ سڑکوں کے منصوبے مکمل ہوئے۔ 90 فیصد تک منصوبے مکمل ہیں جبکہ 820 کلومیٹر آپٹیکل فائبر مکمل ہو چکی ہے۔

2017 میں ایم ایل ون، معائدہ ہوا تھا جس کے تحت ریل وے کا روٹ خنجراب سے گوادر تک رکھا گیا تھا۔ ایم ایل ون کی لمبائی 1733کلومیٹر ہے۔

وزارت منصوبہ بندی حکام کے مطابق کرونا کی وجہ سے بھی منصوبوں میں سست روی ہوئی، ’گذشتہ دور حکومت میں بھی کام سست روی کا شکار ہوا تھا۔ کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ، سپیشل اکنامک زون، صنعتوں کی بحالی بھی فیزٹو کا حصہ ہے۔ 46 ارب ڈالرز سے اب تک 27.3 ارب ڈالرز سی پیک کے منصوبوں پر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 46 ارب ڈالرز سے اوپر کے 16 ارب ڈالرز کی تخمینہ رقم فیز ٹو کے منصوبوں کی ہے۔‘

سال 2013 میں ن لیگ کے دور حکومت میں شروع ہونے والے سی پیک میں متعدد منصوبے مکمل ہوئے جن میں سکی کناری ڈیم اور داسو ڈیم جیسے منصوبے تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں۔.

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریک انصاف کے دور حکومت میں سی پیک سست روی کا شکار ہوا جس کے بعد اس وقت کے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بیان دیا تھا کہ ’سی پیک پر کام سست نہیں ہوا۔‘

تاہم اس دوران زیر تکمیل سکی کناری ڈیم اور داسو ڈیم جیسے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہوئے۔

ماہر معاشی امور اور سینیئر صحافی شہباز رانا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’سی پیک پہ مستعدی سے کام 2014 سے لے کر 2018 تک ہوا تھا اور 2018 کے بعد سے سی پیک پہ کام سست روی کا شکار ہے اور مزید اس میں فی الحال توسیع نہیں ہو رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سی پیک فیزٹو حکومت پاکستان کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن چین کی طرف سے فیز ٹو پر کچھ زیادہ سگنلز نہیں ہیں۔ چین کی طرف سے فیز ٹو پر بات کرنا اس لیے میچور نہیں ہے کیونکہ چائنیز کو پہلے سے سی پیک فیز ون پر مسائل آ رہے ہیں، پاکستان نے جو ان سے معائدے کیے تھے ان پر مکمل عمل درآمد نہیں رہا، جب تک سی پیک فیز ون کے معاملات حل نہیں ہوں گے تب تک فیز ٹو کو مستعدی سے آگے بڑھانا ممکن نہیں ہو گا۔‘

معاشی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شکیل احمد نے بتایا کہ سی پیک سی پیک فیز ون میں روڈ نیٹ ورکس اور پلوں کی تعمیر پر تو کام ہوا لیکن ریلوے سے متعلق منصوبے سست روی کا شکار ہوئے۔ ’اس کی وجوہات کئی ہیں، سب بڑی وجہ سکیورٹی تخفظات ہیں کیونکہ چینی باشندوں پر بارہا حملے ہوئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام بھی سی پیک منصوبے میں سست روی کی ایک وجہ ہے۔ چین اب کھل کر پاکستان میں اس طرح سرمایہ کاری نہیں کر رہا جس طرح 2013-2017 کے درمیان چین نے کی تھی۔‘

چینی باشندوں پر حملے اور چین کے تخفظات

رواں برس سی پیک منصوبے داسو ڈیم سائٹ پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان میں کام کرنے والے چینی ماہرین کو سکیورٹی خدشات لاحق ہوئے۔

رواں برس مارچ کے مہینے میں بشام میں پانچ چینی باشندے اور ایک پاکستانی ڈرائیور کی خودکش حملے میں موت ہوئی جس کے بعد اسلام آباد میں چینی سفارت خانے نے حکومت پاکستان سے واقعے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے زیر صدارت داسو ہائیڈل پاور منصوبے پر کام کرنے والے چینی شہریوں پر بشام میں دہشت گرد حملے کے بعد اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں آرمی چیف نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر آرمی چیف نے کہا تھا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے کہ ہر غیر ملکی شہری خاص طور پر چینی شہری جو پاکستان کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں پاکستان میں محفوظ رہیں، ہم پوری طاقت کے ساتھ دہشت گردی کا آخری دم تک مقابلہ کریں گے۔‘

گذشتہ برس سی پیک کے 10 سال مکمل ہوئے

انڈپینڈنٹ اردو کو میسر معلومات کے مطابق گذشتہ برس جولائی 2023 میں چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی دفتر کے رکن ہی لیفنگ  تین روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔

گذشتہ آٹھ سالوں میں چین کی اعلی قیادت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس سے قبل 2015 میں چین کے صدر شی جین پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

اس بڑے تجارتی منصوبے کا آغاز 2013 میں ہوا تھا جبکہ 2015 میں چین کے صدر اور اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے 46 ارب ڈالر کے 51 باہمی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

سی پیک کے تحت چین پاکستان میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ان منصوبوں میں سڑکیں، زراعت، بجلی اور پانی کے منصوبے سر فہرست ہیں۔

اس کے علاوہ گوادر بندرگاہ، توانائی اور مواصلاتی نظام اور صنعتی زونز کی بہتری بھی سی پیک کا حصہ ہے۔

نومبر 2017 میں بھی طویل مدتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے جن کی مدت 2030 تک تھی۔ سی پیک کا پہلا فیز 2020 تک مکمل ہونا تھا، دوسرا مرحلہ 2025 جبکہ تیسرے مرحلے کی مدت 2030 تک ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت