خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے سرکاری میاں راشد حسین شہید ہسپتال کی وارڈ سے گذشتہ روز ایک لاوارث مریض کو مبینہ طور پر علاج کی سہولت مہیا کرنے کی بجائے ہسپتال کے عملے نے ایمرجنسی وارڈ سے نکال دیا، جس کے بعد بیمار کی موت واقع ہوگئی۔
اس واقعے کی کلوز سرکٹ ٹیلی وژن کیمرہ (سی سی ٹی وی) فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس کے بعد صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مریض وارڈ میں بیڈ پر موجود ہیں کہ تین افراد آکر انہیں اٹھاتے اور ویل چیئر پر بٹھاتے ہیں۔
اس کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مریض کو وارڈ سے باہر نکال کر ایک کھلے صحن میں بیٹھا دیا جاتا ہے، جہاں مریض لیٹ جاتا ہے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ بیمار شخص کو ہسپتال کے صحن کے ساتھ پارکنگ ایریا مین چھوڑا گیا تھا۔
صوبائی وزیر صحت سید قاسم علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والے عملے کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا، ’جو بھی اس واقعے میں ملوث پایا گیا، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘
مریض کون تھا اور واقعہ کیسے پیش آیا؟
یہ گذشتہ مہینے کی 30 تاریخ تھی جب ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن پر میڈیکل ایمرجنسی کے لیے کال کی گئی اور بتایا گیا کہ ایک نشئی شخص کی حالت خراب ہے اور انہیں ہسپتال پہنچانا ضروری ہے۔
ریسکیو 1122 نوشہرہ کے ترجمان محمد نبیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پروٹوکول کے مطابق چھ منٹ کے اندر ریسکیو عملہ نوشہرہ کی تحصیل پبی کی پولیس چوکی کے قریب مریض کے پاس پہنچ گئے، جو نیم بے ہوشی کی حالت میں وہاں پڑے تھے۔ مریض کو ایمبولینس میں منتقل کردیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا، ’ایمبولینس میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد مریض کو میاں راشد حسین ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن اس کے بعد یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے۔‘
نبیل کا کہنا تھا، ’اس کے بعد مریض وارڈ میں تھا اور ان کی حالت بہت خراب نہیں تھی لیکن بعد میں جو ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔‘
مریض کو وارڈ سے باہر نکالے جانے کے حوالے سے محمد نبیل نے بتایا کہ مریض کی ہسپتال پرچی بنائی گئی تھی اور ریسکیو کے عملے کو انہیں دوسرے ہسپتال ریفر کرنے کا بتایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا، ’پرچی پر ہسپتال عملے کی جانب سے ریفر کرنے کی ہدایت نہیں لکھی گئی تھی اور ہمارے پروٹوکول کے مطابق پرچی پر ریفر لکھے بغیر ہم کسی بھی مریض کو دوسرے ہسپتال منتقل نہیں کر سکتے۔‘
نبیل کا کہنا تھا: ’ہم روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کو ریفر کرتے ہیں لیکن اس کا باقاعدہ ایک طریقہ کار ہے اور مریض کو تب ہی دوسرے ہسپتال ریفر کیا جا سکتا ہے جب پرچی پر ڈاکٹر کی جانب سے لکھا جائے۔‘
اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ریسکیو 1122 کی ایمبولینس، جو مریض کو جس پارکنگ ایریا میں بیٹھایا گیا اس کے قریب ہی کھڑی نظر آرہی ہے۔
اس حوالے سے نبیل نے بتایا کہ اسی ہسپتال میں ان کا کمرہ موجود ہے اور ایمبولینس ہسپتال میں کھڑی ہوتی ہے لیکن چونکہ مریض کی پرچی پر دوسرے ہسپتال کو ریفر کرنے کی ہدایت نہیں لکھی گئی تھی اور صرف خالی پرچی تھی، تو مریض کو دوسرے ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اس واقعے کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردونے ہسپتال انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔