پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازیں جلد بحال ہوں گی: حکومت

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان نے ایک تفصیلی ایکشن پلان یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کو بھیجا ہے، جس کی تصدیق کا عمل دو سے تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور یورپ کے لیے پروازیں بحال ہو جائیں گی۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا بوئنگ 777 طیارہ 8 جون، 2020 کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترنے جا رہا ہے (اے ایف پی)

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک نے جمعے کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی یورپ کے لیے پروازیں جلد بحال ہونے کی امید ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی جانب سے ایک تفصیلی ایکشن پلان یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کو بھیج دیا گیا ہے اور اس کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ تصدیق کا عمل دو سے تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور یورپ کے لیے پروازیں بحال ہو جائیں گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ یورپی کمیشن ایئر سیفٹی کمیشن نے 14 مئی کو پاکستان کو اپنی تشویش کی فہرست سے خارج کر دیا تھا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

مئی 2020 میں پی آئی اے کےایک  مسافر طیارے کو کراچی میں پیش آنے والے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے انکشاف کیا تھا کہ پی آئی اے کے کئی پائلٹس کے لائسنسز  مشکوک ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے بعد یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی نے یکم جولائی 2020 کو پی آئی اے کے یورپی ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو معطل کردیا تھا جبکہ برطانیہ نے بھی فلائٹ آپریشن فوری طور پر روک دیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے ہنگامی طور پر تمام یورپی ممالک کے سفیروں سے رابطہ کر کے پی آئی اے کو یکم تا تین جولائی برطانیہ اور یورپ اترنے اور اوور فلائنگ کی اجازت حاصل کی ہے۔  

صرف یہی نہیں، اقوام متحدہ نے بھی فوری طور پر پاکستانی فضائی کمپنیوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی اور پاکستان میں رجسٹرڈ تمام فضائی کمپنیوں کو اقوام متحدہ کی منظور کردہ فہرست سے بھی نکال دیا تھا۔

پی آئی اے  کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس وقت بیان جاری کیا گیا تھا کہ قومی ایئر لائن یورپی فضائی سیفٹی کے ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، امید ہے جلد معاملہ حل ہو جائے گا۔

مالی مشکلات کی شکار قومی ایئر لائن پر ان دنوں نجکاری کے سائے گردش کر رہے ہیں اور حکومت نے اس کے لیے معروف بین الاقوامی پیشہ ورانہ خدمات دینے والی کمپنی ارنسٹ اینڈ ینگ کی خدمات حاصل کی ہیں۔

یہ معروف کمپنی اس معاملے میں حکومت اور متوقع خریداروں کے درمیان معاملات دیکھے گی۔

حکومت پی آئی اے میں 29 سے 51 فیصد شراکت کی خواہش مند ہے، یعنی سرمایہ کار اس میں سے جس شرح پر بھی راضی ہوں حکومت انہیں اس شرح پر ایئرلائن کی ملکیت سونپ دے گی۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان