پاکستان کی وفاقی حکومت آج (بدھ کو) 18 کھرب روپے سے زائد کا اپنا پہلا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جو مالیاتی سال 25-2024 کے لیے ملکی اخراجات اور آمدن کی عکاسی کرے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے منگل کو مالی سال24۔2023 کے اقتصادی سروے کے اجرا کے موقعے پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جاری مالی سال کے دوران آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازوں کے برعکس پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 2.4 فیصد بڑھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جاری مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت کا حجم 11 فیصد اضافے کے بعد 338 ارب ڈالر سے بڑھ کر 375 ارب ڈالر ہو گیا جبکہ مہنگائی کی شرح 11.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیرات سے فلاحی ادارے تو چل سکتے ہیں ملک نہیں چل سکتا، ملک چلانے کے لیے ٹیکس ضروری ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق کوئی مقدس گائے نہیں ہے اور ملکی معاملات کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
گذشتہ روز اقتصادی سروے پیش کیے جانے کے بعد آج شام کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جائے گا۔ جہاں عوام کے ہر طبقے کی نظریں بجٹ پر مرکوز ہوتی ہیں، وہیں انہیں حکومت سے ٹیکسز کی مد میں ملنے والے ’ریلیف‘ یا ’بوجھ‘ کو لے کر فکر بھی ہوتی ہے۔
بجٹ بنتا کیسے ہے؟
سوال یہ اٹھتا ہے کہ بجٹ کا تعین کون اور کیسے کرتا ہے؟ بجٹ پر کون کون تجاویز دے سکتا ہے؟ کیا ان تجاویز کی کوئی قانونی حیثیت ہے؟ بجٹ کن مراحل سے گزر کر بنتا ہے؟ اور کس طرح لاگو ہوتا ہے؟
سالانہ بجٹ وزارت خزانہ تیار کرتی ہے۔ وزارت کے فائنانس ڈویژن میں بجٹ ونگ بجٹ مرتب کرتا ہے۔ پاکستان میں مالی سال یکم جولائی سے شروع ہو کر اگلے سال 30 جون پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق بجٹ کی تیاری کا آغاز وزارت خزانہ صوبائی حکومتوں، ٹریڈ یونینز، کاروباری انجمنوں اور سول سوسائٹی کی مشاورت سے کرتی ہے۔
وفاقی بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو ایوان میں موجود اراکین قومی اسمبلی کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہونے کے چند گھنٹوں بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اسے پیش کیا جاتا ہے، جو فوری طور پر بجٹ کو خزانہ کمیٹی کے سپرد کر دیتا ہے۔