امریکی صدارتی امیدوار کملا ہیرس کی باضابطہ نامزدگی کے لیے منعقدہ ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن میں رہنماؤں کی تقریر سے چند گھنٹے قبل غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے پیر کو شکاگو میں کنونشن کی بیرونی حفاظتی باڑ عبور کر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔
فرانسیسی خبررساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق بائیڈن نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں سکیورٹی کوتاہیوں کا براہ راست ذکر نہیں کیا لیکن انہوں نے کہا کہ ’جو مظاہرین سڑکوں پر نکلے ہیں، ان کی بات میں وزن ہے۔ اسرائیل اور حماس کے تنازعے کے دونوں اطراف بہت سے بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔‘
ڈیموکریٹک پارٹی کے اجتماع کے پہلے دن ایک چھوٹے گروپ نے، جو تقریباً 100 مظاہرین پر مشتمل تھا، ہزاروں لوگوں پر مشتمل بڑے مارچ سے الگ ہو گیا اور یونائیٹڈ سینٹر کے ارد گرد دھاتی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔
نیلے ہیلمٹ پہنے پولیس نے ڈھال اور سیاہ لاٹھیوں کے ساتھ انہیں اندرونی محاصرے میں جانے سے روک دیا۔
اے ایف پی کے نامہ نگار نے دیکھا کہ سیاہ لباس میں ملبوس ایک مظاہرہ کرنے والے کو کئی افسران نے بازوؤں اور ٹانگوں سے پکڑ کر اٹھا رکھا تھا۔
سات اکتوبر 2023 کے بعد حماس کے خلاف اسرائیل کے لیے جو بائیڈن اور ہیرس انتظامیہ کی حمایت کے خلاف احتجاجی گروپوں نے پورا ہفتہ بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
شکاگو پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مظاہرین نے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے بیرونی احاطے کے گرد نصب باڑ کے ایک حصے کو توڑ دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور صورت حال پر قابو پایا۔ کسی بھی موقع پر اندرونی احاطے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی بھی زیر حفاظت شخص کو کوئی خطرہ تھا۔‘
پولیس نے بعد میں کنونشن سینٹر کے قریب ایک پارک کی طرف پیش قدمی کی تاکہ اسے مظاہرین سے خالی کرایا جا سکے۔
’آزاد فلسطین‘ اور ’آؤ مارچ کریں‘ کے نعرے اس وقت تک جاری رہے جب تقریبا نصف درجن کارکن، جن میں سے ایک نے گلابی گیس کا ماسک پہنا ہوا تھا، وہاں سے نکلنے لگے۔
پانچ نومبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت ایک انتہائی اختلافی مسئلہ رہا ہے۔
اس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ مسلم اور عرب امریکی ووٹرز الگ ہو جائیں گے، جو کبھی ایک قابل اعتماد ڈیموکریٹک ووٹنگ بلاک ہوا کرتے تھے، بالخصوص الیکشن کی اہم ریاستوں میں۔
بائیڈن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کی انتظامیہ ’مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی لانے کے لیے‘ کام کرتی رہے گی۔
’ہم 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ ایک وسیع تر جنگ کو روکنے اور قیدیوں کو ان کے اہل خانہ سے دوبارہ ملانے اور غزہ میں انسانی صحت اور خوراک کی امداد میں اضافہ کرنے، فلسطینی عوام کے مصائب ختم کرنے، اور آخر کار، بالآخر فائر بندی اور اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو ایک جذباتی انداز میں ڈیموکریٹک نامزد امیدوار کملا ہیرس کو گلے لگا کر اور شکاگو میں پارٹی کے کنونشن میں ایک الوداعی خطاب میں کہا کہ انہوں نے ’اپنے ملک کے لیے سب کچھ دے دیا۔‘
81 سالہ جو بائیڈن نے تقریبا ایک گھنٹے کی تقریر میں ایک نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ، امریکہ، میں نے تمہارے لیے اپنی پوری کوشش کی۔‘ جب کہ ووٹروں سے درخواست کی کہ وہ نومبر میں ٹرمپ کی مخالف کی حمایت کریں۔‘