اسرائیل اور حماس کے حکام نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ مرنے والے قیدیوں کی لاشوں کے تبادلے اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس سے امید ہے کہ جاری نازک فائر بندی کم از کم مزید چند دنوں کے لیے برقرار رہے گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل نے ہفتے سے اب تک 600 فلسطینی قیدیوں کی رہائی مؤخر کر رکھی تھی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ حماس نے قیدیوں کی رہائی کے دوران ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔
دوسری طرف، حماس نے اس تاخیر کو ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ان فلسطینی قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا، فائر بندی کے دوسرے مرحلے پر بات چیت ممکن نہیں ہو گی۔
خدشہ ہے کہ یہ تعطل اس فائر بندی کے خاتمے کا سبب بن سکتا تھا، جس کا ڈیڑھ ماہ پر مشتمل پہلا مرحلہ اس ہفتے کے آخر میں ختم ہو گا۔
لیکن منگل کی رات، حماس نے اعلان کیا کہ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب گروپ کے اعلیٰ سیاسی عہدیدار خلیل الحیة کی سربراہی میں ایک وفد قاہرہ کے دورے پر تھا۔
اس پیش رفت کے تحت چار مزید ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی اور فائر بندی کے تحت سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔
حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے سے رہائی کے لیے طے شدہ قیدی اور لاشیں بیک وقت اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی اور ساتھ ہی فلسطینی قیدیوں کا ایک نیا گروپ بھی رہا ہو گا۔
ایک اسرائیلی عہدیدار، جو میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لاشیں واپس لانے کے معاہدے کی تصدیق کی، مگر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
البتہ اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ تبادلہ بدھ کو ہو سکتا ہے۔
وائے نیٹ نیوز ویب سائٹ کے مطابق، اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں مصری حکام کے حوالے کی جائیں گی، بغیر کسی عوامی تقریب کے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیل، ریڈ کراس اور اقوام متحدہ کے حکام نے ان تقاریب کو ’قیدیوں کی بے عزتی‘ قرار دیا تھا، اور اسرائیل نے گذشتہ ہفتے اس پر احتجاج کرتے ہوئے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی تھی۔
نئے معاہدے سے فائر بندی کے پہلے مرحلے کی تمام شرائط مکمل ہونے کا امکان ہے، جس میں 33 اسرائیلی قیدیوں کی واپسی شامل ہے، جن میں آٹھ لاشیں بھی شامل ہیں، جبکہ اس کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا۔
اس پیش رفت سے وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی، سٹیو وٹکوف کے متوقع دورے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
وٹکوف، جو آئندہ چند روز میں خطے کا دورہ کرنے والے ہیں، کہہ چکے ہیں کہ وہ دوسرے مرحلے کی بات چیت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، جس میں:
• باقی تمام قیدیوں کی رہائی
• مسلح کشیدگی کے مکمل خاتمے پر مذاکرات شامل ہوں گے
یہ مذاکرات ہفتوں پہلے شروع ہونے والے تھے، لیکن شروع نہیں ہو سکے۔
یہ فائر بندی، جو امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں طے پائی، نے 15 ماہ کی شدید جارحیت کو روکا۔
ایک ہفتے میں چھ نوزائیدہ بچوں کی اموات
غزہ کے شہری دفاع کے ادارے نے منگل کو بتایا کہ اسرائیلی جارحیت سے تباہ حال فلسطینی علاقے میں سردی کی لہر سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران چھ نوزائیدہ بچے جان سے گئے۔
ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کو بتایا کہ شدید سردی کی لہر اور گرمائش کم ہونے کے نتیجے میں ہم نے گذشتہ ہفتے سے آج تک چھ نوزائیدہ بچوں کی اموات ریکارڈ کی ہیں۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجہ حرارت صفر ڈگری سیلسیس (32 ڈگری فارن ہائیٹ) تک گر گیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری فائر بندی سے غزہ میں پہنچنے والی انسانی امداد کا حجم میں بڑھ گیا ہے، لیکن لاکھوں فلسطینی خیموں میں رہ رہے ہیں۔
بہت سے لوگوں نے اپنے سابقہ گھروں کے ملبے کے باہر خیمے لگا رکھے ہیں اور سخت سردی میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حماس نے کئی بار اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ کے 24 لاکھ لوگوں تک پناہ گاہوں کی فراہمی روک رہا ہے۔
غزہ کی زیادہ تر آبادی اسرائیلی جارحیت کے دوران کم از کم ایک بار بے گھر ہو چکی ہے۔ اس نے چھ نوزائیدہ بچوں کی موت کا ذمہ دار اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان روکنے کو قرار دیا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا: ’ہم ثالثوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کریں ... غزہ میں پناہ گاہ، گرمائش اور فوری طبی سامان جیسی ضروری اشیا کے داخلے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ غزہ کے بچوں کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔‘
پی ایف بی ایس (Patient's Friends Benevolent Society) ہسپتال کے صحت عامہ کے اہلکار ڈاکٹر سعید صالح نے منگل کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شدید سردی سے متاثرہ آٹھ نومولود بچے ہسپتال لائے گئے، جن میں سے چھ جانبر نہ ہو سکے۔
طبی حکام نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعے کے ثالثوں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گھر دو لاکھ 80 ہزار سے زائد خاندانوں کے لیے عارضی رہائش گاہیں (موبائل ہومز) فراہم کی جائیں۔
انہوں نے بچوں کو سخت سردی سے بچانے کے لیے ایندھن کی فوری ترسیل کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ انہیں گرم رکھنے کے انتظامات کیے جا سکیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان 19 جنوری کو فائر بندی کا معاہدہ ہوا، جس کا مقصد 16 ماہ سے جاری مسلح کشیدگی کا خاتمہ اور قیدیوں کا تبادلہ تھا۔
حماس نے بچوں کی اموات کی ذمہ داری اسرائیل کی ’مجرمانہ پالیسیوں‘ پر عائد کی اور اسرائیل پر انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔
دوسری جانب، اسرائیل نے فوری طور پر ان اموات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
بین الاقوامی امدادی حکام کا کہنا ہے کہ امداد غزہ پہنچ رہی ہے، لیکن ترسیل میں رکاوٹیں موجود ہیں اور مزید امداد کی اشد ضرورت ہے۔
سات اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے حماس کے حملے کے جواب میں، اسرائیل نے غزہ میں ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق 48 ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں۔ مرنے والوں میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔
ان اسرائیلی حملوں میں غزہ کی 90 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ علاقے کی بنیادی انفراسٹرکچر اور صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔