بابر اعظم کے علاوہ ہمارے پاس کیا آپشن ہے؟ پاکستان ہیڈ کوچ

ہیڈ کوچ عاقب جاوید کے مطابق انڈیا سے ہارنے پر پوری ٹیم دکھی ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ہارنے پر پوری بدل دیں۔

پاکستانی بیٹر بابر اعظم 23 فروری، 2025 کو دبئی میں انڈیا کے خلاف میچ سے قبل وارم اپ سیشن میں دوران (اے ایف پی)

پاکستان کے گھر پر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی سے ابتدائی مرحلے میں ہی باہر ہونے کے بعد ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے بدھ کو کھلاڑیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجوہ ٹیم میں کوئی کھلاڑی پرفارمنس کے بغیر سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

چیمپیئنز ٹرافی میں جمعرات کو غیر اہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان میچ سے پہلے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران عاقب جاوید نے کہا کہ انڈیا سے ہارنے اور ٹورنامنٹ سے نکلنے پر تمام کھلاڑی افسردہ ہیں کیوں کہ ٹیم توقعات کےمطابق نہیں کھیلتی تو سب سےزیادہ دکھ کھلاڑیوں کو ہوتا ہے۔

’کسی بھی ٹیم سے موازنہ کرلیں۔ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف بہترین باؤلر ہیں، بابر اعظم کے متبادل ہمارے پاس کیا آپشن ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ سلیکشن کمیٹی کا کام بہترین کھلاڑی کھلانا ہے، اب آگے وہی کریں گے جو اس ٹیم کے لیے بہتر ہے، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہارنے پر پوری بدل دیں اور انڈر 19 کی ٹیم کھلا دیں۔‘

عاقب جاوید نے تسلیم کیا کہ صرف دبئی میں کھیلنا انڈیا کے لیے فائدہ مند تھا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ انڈیا اپنے تمام میچ دبئی میں کیوں کھیل رہا ہے، خاص طور پر جب سابق انگلش کرکٹرز ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن نے کہا تھا کہ صرف دبئی میں کھیلنے میں انڈین ٹیم کو ’ناقابلِ تردید فائدہ‘ حاصل ہے؟

اس پرعاقب جاوید نے جواب دیا: ’دیکھیں، وہ دبئی میں کھیل رہے ہیں کیونکہ اس کے پیچھے ایک مخصوص وجہ ہے۔ یقیناً، ایک ہی گراؤنڈ میں کھیلنا اور ایک ہی ہوٹل میں رہنا ایک فائدہ مند پہلو ہے، لیکن ہم اس وجہ سے نہیں ہارے۔

’ایسا نہیں کہ انہوں نے ہمارے آنے سے پہلے 10 میچ کھیل لیے تھے۔‘

عاقب جاوید نے کرکٹ ماہرین اور شائقین سے اپیل کی کہ وہ کھلاڑیوں کے جذبات کو سمجھیں کیونکہ انڈیا کے خلاف خراب کارکردگی کے بعد سب سے زیادہ تکلیف کھلاڑیوں کو ہوئی ہے۔

’اس کے لیے کوئی بہانے نہیں ہونے چاہیں۔ اگر آپ اس ٹیم کو دیکھیں تو ہم ہمیشہ امید کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں لیکن جب نتیجہ توقعات کے برعکس آتا ہے تو کھلاڑی سب سے زیادہ دکھی ہوتے ہیں۔

’ہمیں صرف کوشش کرنی ہے کہ ٹیم کو بہتر بنائیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ ہم اگلے میچ پر توجہ دے رہے ہیں۔

’لیکن جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہوتا ہے، تو اس میں جذبات شامل ہوتے ہیں۔ شائقین اور صحافیوں سے زیادہ کھلاڑی جذباتی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے انڈیا کے خلاف شکست کی ایک بڑی وجہ پاکستان ٹیم کی کم تجربہ کاری کو قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جب پاکستان اور انڈیا کا میچ ہوتا ہے تو یہ محض ایک میچ نہیں ہوتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔

’یہ انڈین ٹیم سب سے زیادہ تجربہ کار ہے کیونکہ ان کے کھلاڑیوں نے اجتماعی طور پر 1500 میچ کھیلے ہیں، جبکہ پاکستان ٹیم اس فہرست میں سب سے نیچے ہے، جس کے کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر تقریباً 400 میچ کھیلے ہیں۔‘

ٹیم سلیکشن پر مطمئن ہونے سے متعلق سوال پر عاقب نے جواب دیا کہ ’مطمئن کبھی نہیں ہوسکتے مگر یہ جو ہماری ٹیم تھی یہی بہترین اور ممکنہ ٹیم تھی۔‘ 

انہوں نے کہا کہ انڈیا کے خلاف 240 رنز کا دفاع کرنے کے لیے وکٹیں لینا، جارحانہ کرکٹ کھیلنا اور منصوبہ کرنا ضروری تھا۔

’اسی ٹیم نے حال ہی میں آسٹریلیا کو ان کی سرزمین پر ہرایا اور جنوبی افریقہ میں وہ کارنامہ انجام دیا جو آج تک کوئی ایشین ٹیم نہیں کر پائی۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ انڈیا ٹیم بہت تجربہ کار تھی اور پاکستانی ٹیم میں تجربے کی کمی ہے کیوں کہ پاکستان ٹیم کے کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔

ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ جس نے ایک میچ کھیلا ہم کہہ رہے ہیں وہ ہوتا تو پاکستان میچ جیت جاتا، ایک بھی ایسا کھلاڑی نہیں جو بغیر پرفارمنس ٹیم میں آیا ہو، ٹیم کو بنانے میں ہماری سوچ تھی کہ بہترین ٹیم بنائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اب ہم خود کو کل کے میچ کے لیے تیار کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش کے خلاف اچھا کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ