غزہ: حماس نے چار اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کر دیں

اس حالیہ تبادلے میں ریڈ کراس کا ایک قافلہ درجنوں رہا کیے گئے فلسطینی قیدیوں کو لے کر اسرائیل کی عوفر جیل سے روانہ ہوا۔

25 فروری 2025 کی اس تصویر میں مرکزی اسرائیل میں ایک ایمبولینس ایک قیدی کی لاش کے ساتھ علاقے میں داخل ہوتے ہوئے (اے ایف پی/ جیک گیئوز)

فلسطینی تنظیم حماس نے جمعرات کی صبح چار اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کیں، جس کے بدلے میں اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

یہ تبادلہ ایسے وقت میں ہوا جب غزہ میں فائر بندی کے پہلے مرحلے کے اختتام میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔

 خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے تصدیق کی کہ حماس نے قیدیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کیں۔

اسرائیل نے بتایا کہ تابوتوں کو مصری ثالثوں کی مدد سے اسرائیلی گزرگاہ کے ذریعے پہنچایا گیا، اور لاشوں کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

تقریباً اسی وقت، ریڈ کراس کا ایک قافلہ درجنوں رہا کیے گئے فلسطینی قیدیوں کو لے کر اسرائیل کی عوفر جیل سے روانہ ہوا۔

مغربی کنارے کے شہر بیتونیا میں خوشی سے جھومتے ہجوم نے ان قیدیوں کے استقبال کے لیے جمع ہو کر بس کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کی۔

رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کو مبارک باد دی گئی، گلے لگایا گیا، اور تصاویر کھینچی گئیں۔ ایک قیدی کو جب کندھوں پر اٹھایا  گیا تو اس نے فتح کا نشان بنایا، جبکہ ہجوم نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے۔

سینکڑوں دیگر قیدیوں کو غزہ بھیجا جانا تھا، جن میں سے زیادہ تر سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد گرفتار کیے گئے تھے اور ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔

اسرائیل نے ہفتے سے 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو اس بنیاد پر روک رکھا تھا کہ حماس نے قیدیوں کی حوالگی کے دوران انہیں ’ظالمانہ سلوک‘ کا نشانہ بنایا۔

حماس نے اسرائیلی تاخیر کو فائر بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا اور کہا کہ جب تک فلسطینی قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا، فائر بندی کے دوسرے مرحلے پر بات چیت ممکن نہیں۔

بدھ کو، اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ماضی کے بر خلاف قیدیوں کی لاشوں کی یہ واپسی کسی تقریب کے بغیر ہوگی۔

جمعرات کو رہا کیے جانے والوں میں وہ سیںکڑوں فلسطینی بھی شامل تھے، جنہیں سات اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ سے گرفتار کیا گیا اور مہینوں تک بغیر کسی الزام کے قید رکھا گیا۔

فلسطینی حکام کی جانب سے شیئر کی گئی فہرست کے مطابق ان میں 445 مرد، 21 نوجوان اور ایک خاتون شامل تھیں۔

اس مرحلے میں صرف 50 فلسطینیوں کو مغربی کنارے اور مشرقی مقبوضہ بیت المقدس بھیجا گیا۔

درجنوں فلسطینی جنہیں اسرائیلیوں پر مبینہ حملوں کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی، انہیں فلسطینی علاقوں سے جلاوطن کر کے کم از کم عارضی طور پر مصر بھیج دیا جائے گا، جب تک کہ کوئی اور ملک انہیں قبول نہیں کرتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تبادلے سے فائر بندی کے پہلے مرحلے کے تحت دونوں فریقوں کی ذمہ داریاں پوری ہو جائیں گی، جس کے دوران حماس نے 33 قیدیوں کو رہا کیا، جن میں آٹھ کی لاشیں شامل تھیں، اور اس کے بدلے میں اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

فائر بندی کے چھ ہفتے پر محیط پہلے مرحلے کی مدت اس ہفتے کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔

امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ فریقین دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی طرف بڑھیں، جس میں تمام باقی قیدیوں کی رہائی اور مسلح تنازعے کے خاتمے پر بات چیت شامل ہوگی۔

دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا آغاز فروری کے پہلے ہفتے میں ہونا تھا۔

یہ فائر بندی امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں عمل میں آئی تھی، جس نے اس 15 ماہ طویل مسلح تنازع کو ختم کیا۔

 فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائی میں 48,000  سے زائد فلسطینی جان سے گئے، جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔

اس لڑائی نے غزہ کی 90 فیصد آبادی کو بے گھر کر دیا اور اس کے بنیادی ڈھانچے اور صحت کے نظام کو تباہ کر دیا۔

غزہ میں شدید ٹھنڈ کے باعث خیمہ بستیوں اور تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے والے افراد مشکلات کا شکار ہیں۔ بدھ کو، فلسطینی صحت حکام نے بتایا کہ ایک اور نوزائیدہ بچے کی ہائپوتھرمیا (شدید سردی لگنے) کی وجہ سے موت ہو گئی، جس سے پچھلے دو ہفتوں میں سردی کے باعث مرنے والے بچوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق، یہ بچہ دو ماہ سے بھی کم عمر کا تھا اور فلسطینی علاقے میں جاری شدید سردی کی لہر کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔

رات کے وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سیلسیئس (50 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بھی کم ہو جاتا ہے، اور حالیہ دنوں میں سردی کی شدت خاصی بڑھ گئی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا