کراچی میں جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مصطفیٰ قتل کیس میں ملزمان کے والدین اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
مصطفیٰ قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے اہل خانہ کو پولیس اور عدالتی عملے کی موجودگی میں ملنے کی اجازت دی۔
سماعت کے دوران ملزم ارمغان نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے پولیس کی تحویل میں نہ دیا جائے، مجھے یہ لوگ اذیت دیتے ہیں۔ 10 دن سے واش روم نہیں جانے دیا۔‘
اس پر عدالت نے جواب دیا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ 10 دن واش روم جانے نہ دیا جائے، ایسا ہوتا تو آپ یہاں کھڑے نہ ہوتے۔
ارمغان نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے کھانے کے لیے نہیں دیا جا رہا، پولیس تھانے لے جا کر میرا مذاق اڑاتی ہے، مجھ سے ہنس کر کہا جاتا ہے کہ تمہارا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے۔‘
پراسیکیوٹر ذوالفقار آرائیں نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’ملزم کا میڈیکل ہائی کورٹ کے حکم پر ہو چکا ہے، ملزم بہت شاطر اور خطرناک ہے، جب تک چالان نہیں آتا تفتیشی افسر کا حق ہے کہ وہ کسی کو ملنے نہ دے، ملزمان کو اجازت دی گئی تو تفتیشں میں مسائل ہوں گے۔‘
عدالت کو پراسیکیوٹر نے آگاہ کیا کہ ارمغان کے گھر کے قالین سے جس خاتون کے خون کے نشانات ملے تھے ان کا سراغ لگا لیا ہے، اب ان کا بیان ریکارڈ کرنا اور ڈی این اے ٹیسٹ کروانا ہے۔
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو مزید جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں دیا جائے۔
ملزم ارمغان کے وکیل عابد زمان نے عدالت میں دلائل دیے کہ ’شیراز کے وکیل کو ان کے مؤکل سے ملنے نہیں دیا لیکن یوٹیوبر انٹرویو لے رہے ہیں۔ چار گھنٹے پولیس مقابلہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران ملزم نے ون فائیو کو کال کی تھی، جس کا ریکارڈ منگوایا جائے۔‘
وکیل صفائی نے عدالت سے کہا کہ ’ملزم کو اس کی والدہ نے گرفتار کروایا تھا، میرے مؤکل کے گھر پر جب چھاپہ مارا گیا تو ارمغان کی والدہ نے ون فائیو پر کال کی تھی۔ ارمغان کی والدہ کا بھی بیان لیا جائے۔‘
عابد زمان نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی اپنے وکیل سے ملاقات کروائی جائے جبکہ ارمغان کی والدہ نے عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے ہی پولیس کے سامنے بیٹے کو سرینڈر کروایا۔
مصطفیٰ عامر کیس کا پس منظر
کراچی پولیس کے مطابق ڈی ایچ اے کے رہائشی مصطفیٰ عامر چھ جنوری 2025 کی شام کو ساڑھے سات بجے اپنی والدہ کو یہ کہہ کر گئے کہ وہ ایک دوست سے ملنے جا رہے ہیں۔
سات جنوری کو درخشاں تھانے میں مصطفیٰ عامر کی والدہ وجیہہ عامر کی مدعیت میں ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ وجیہہ عامر کے مطابق چھ جنوری کو ان کا بیٹا شام ساڑھے سات بجے اپنی کار میں گھر سے نکلا اور ایک گھنٹے بعد ان کی انٹرنیٹ ڈیوائس بند ہو گئی۔ انہوں نے اپنے طور پر بیٹے کی تلاش اور معلومات حاصل کی لیکن ان کا پتہ نہیں چل سکا۔
چھ جنوری سے لاپتہ مصطفیٰ عامر کا 24 جنوری تک پتہ نہیں لگ سکا تھا۔
14 جنوری کو کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مقدس حیدر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 25 جنوری کو مصطفیٰ عامر کی والدہ کو ایک امریکی نمبر والی سم سے تاوان کے لیے کال موصول ہونے کے بعد یہ مقدمہ اغوا برائے تاوان میں تبدیل کرکے سی آئی اے کو دے دیا گیا تھا۔
مقدس حیدر کے مطابق: ’اس کیس میں سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) نے بھرپور مدد کی۔ 25 جنوری کو تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد سی آئی اے اور سی پی ایل سی نے مشترکہ تحقیقات شروع کیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’آٹھ فروری کو پولیس اور سی پی ایل سی نے مشترکہ طور پر ڈی ایچ اے کے ایک گھر پر چھاپہ مارا، جس کے دوران ملزم ارمغان نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ڈپٹی انسپکٹر پولیس (ڈی ایس پی) احسن ذوالفقار اور سپاہی زخمی ہوئے، تاہم پولیس نے ملزم ارمغان کو گرفتار کرلیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ملزم کی تحویل سے انتہائی مہنگے ہتھیار ملے۔ اس کے علاوہ لاپتہ مصطفیٰ عامر کا موبائل فون بھی ملزم کے پاس سے ملا اور گھر کے قالین پر خون کے نشانات ملے، جو دونوں انتہائی اہم ثبوت تھے۔‘
مقدس حیدر کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کی گرفتاری کے بعد تحقیقات کے لیے عدالت سے ایک دن کا عدالتی ریمانڈ ملا مگر مزید ریمانڈ نہ ملنے کے باعث تفتیش نہ ہو سکی، جس کے بعد سی پی ایل سی اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مدد سے مزید تفتیش کی گئی۔
مقدمہ آگے بڑھا تو مرکزی ملزم ارمغان اور مقتول کے مشترکہ دوست شیراز عرف شاویز بخاری کو 13 فروری کو گرفتار کیا گیا، جس سے پولیس کو اس کیس کے متعلق تمام پہلو اور کرائم سین سے لاش کو ٹھکانے لگانے کی معلومات ملیں۔
مزید برآں، ملزم شیراز نے انکشاف کیا کہ ارمغان نے مصطفیٰ کو بہانے سے اپنے گھر بلایا، جہاں اس پر تین گھنٹے تک تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں مصطفیٰ کی لاش کو ان کی گاڑی میں ڈال کر حب کے قریب آگ لگا دی گئی۔
بعد میں شیراز نے پولیس کو جو کچھ بتایا، وہی ارمغان کے حراست میں لیے گئے ان کے دو ملازمین نے بھی بتایا، جس کے بعد پولیس کو لاش کا پتہ لگا۔