پرویز خٹک کی کابینہ میں شمولیت کا مقصد پی ٹی آئی پر دباؤ؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پر دباؤ ڈالنے کے لیے پرویز خٹک کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

30 اکتوبر 2016 کو پرویز خٹک وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حیثیت سے صوابی میں ایک ریلی کے دوران لوگوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو کابینہ میں شامل کر کے انہیں مشیر برائے وزیراعظم تعینات کیا ہے، جس کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر دباؤ ڈالنے کے لیے کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

پشاور میں مقیم صحافی و تجزیہ کار محمود جان بابر کے مطابق پرویز خٹک شاید مسلم لیگ ن کا انتخاب نہ ہوں، لیکن ان کی پسند ہوں گے، جن کی پسند محسن نقوی یا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میرے خیال میں مسلم لیگ ن کو اس صوبے میں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو پی ٹی آئی کے بیانیے کو دبانے اور ان کو جواب دینا جانتے ہوں۔ 

’پرویز خٹک کے پاس کہنے کو باتیں بھی ہیں اور لوگ کچھ حد تک ان پر یقین بھی کرتے ہیں تو انہیں کابینہ کا حصہ بنایا گیا۔‘

کیا پرویز خٹک کو کابینہ میں شامل کرنے اور صوبائی قیادت کو نظر انداز کرنے سے مسلم لیگ ن کو صوبے میں کوئی نقصان ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں محمود جان بابر کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ایسا کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔‘

محمود جان کے مطابق: ’مسلم لیگ ن کے نوشہرہ سے رکن صوبائی اسمبلی اختیار ولی ہیں تو جماعت ان کو کسی اور طریقے سے خوش کرے گی تاہم باقی ایسا کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔‘

پی ٹی آئی پر اس تعیناتی کے اثر کے متعلق محمود جان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان کے علاوہ کسی پر بھی یقین نہیں کرتے اور پرویز خٹک کچھ بھی بولیں، پی ٹی آئی کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘

ارشد عزیز ملک پشاور میں روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر اور سیاسی تجزیہ کار ہیں، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں شکست کے بعد پرویز خٹک دل برداشتہ ہو گئے تھے۔ 

انہوں نے بتایا: ’انتخابات سے قبل پرویز خٹک خود ہمیں بتاتے تھے کہ وہ وزیراعلیٰ ہوں گے اور انتخابات جیت جائیں گے، لیکن نتیجہ کچھ اور آ گیا۔‘

ارشد عزیز نے پرویز خٹک کی شمولیت سے مسلم لیگ ن پر پڑنے والے اثر کے بارے میں بتایا کہ ’اس سے مسلم لیگ ن کو فائدہ ہو گا اور اس کی وجہ پرویز خٹک گروپ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’پرویز خٹک کے ساتھ جانے والے پی ٹی آئی کے کارکنان ان کے وفادار ہیں، ابھی انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت تو اختیار نہیں کی لیکن مستقبل میں وہ مسلم لیگ کا اپنا ایک گروپ بنا سکتے ہیں، جس کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہو گا۔‘

ارشد عزیز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دوسری وجہ یہ بتائی کہ ’خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ کے پاس امیر مقام کے علاوہ تگڑا بندہ نہیں ہے، جو بول سکے اور کسی کو جواب دے سکے، پرویز خٹک اب وہ خلا پر کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پرویز خٹک اگر صوبائی معاملات پر کچھ بولیں گے تو ان کی بات میں وزن ہو گا اور میڈیا بھی ان کو سنجیدہ لے گا، سو پرویز خٹک کی شمولیت مسلم لیگ اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے لیے فائدے کا سودا ہے۔‘

پرویز خٹک: پاکستان پیپلز پارٹی سے پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز تک 

ایچی سن کالج لاہور کی ویب سائٹ پر موجود پرویز خٹک کی پروفائل کے مطابق انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1983 میں کیا، جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ڈسٹرکٹ کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔

پرویز خٹک نے 2008 کے انتخابات میں صوبے کے سابق وزیراعلیٰ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی، تاہم انہوں نے 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی اور 2013 کے انتخابات میں اسی جماعت کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد ازاں وہ پی ٹی آئی کی چھتری تلے ہی وزیراعلیٰ کے منصب پر بھی فائز ہوئے۔

2018 کے انتخابات میں پرویز خٹک رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہیں عمران خان کی کابینہ میں وزیر دفاع بنایا گیا۔

پرویز خٹک 2002 کے انتخابات سے قبل ضلع نوشہرہ سے صرف صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے میدان میں اترتے رہے، 2018 میں پہلی مرتبہ انہوں نے قومی اسمبلی کے لیے قسمت آزمائی اور کامیاب رہے۔

فروری 2024 کے عام انتخابات میں پرویز خٹک نے قومی اسمبلی کی نشست کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے لیے بھی انتخابات میں حصہ لیا۔

انہی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے عمران خٹک نوشہرہ کی قومی اسمبلی کی دوسری نشست این اے 34 نوشہرہ دو کے لیے امیدوار تھے، لیکن دونوں امیدوار انتخابات میں ہار گئے۔ 

اس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز کے نام سے سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور پی ٹی آئی کے کچھ رہنما ان کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ 

فروری 2024 کے عام انتخابات میں پرویز خٹک کی جماعت نے قومی اسمبلی کے 45 میں سے 17 حلقوں اور صوبائی اسمبلی کے 115 حلقوں میں سے 73 پر اپنے امیدوار کھڑے کیے لیکن صرف صوبائی اسمبلی کے دو امیدوار کامیاب ہوئے۔ 

نوشہرہ سے پرویز خٹک سمیت ان کی جماعت کے تمام امیدوار ہار گئے تھے، جس کے بعد پرویز خٹک نے اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی سے استعفیٰ دے کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست