اسرائیلی حملے میں ترجمان عبداللطیف القانوع قتل: حماس

الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق ترجمان عبداللطیف القانوع جبالیہ میں اپنے پناہ گزین کیمپ میں تھے جب ان کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

25 مارچ 2025 کی اس تصویر میں فلسطینی شمالی غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث سامان کے ساتھ جاتے ہوئے (اے ایف پی/ بشر طالب)

فلسطینی تنظیم حماس سے منسلک میڈیا نے جمعرات کو بتایا کہ شمالی غزہ میں تازہ اسرائیلی حملے میں تنظیم کے ترجمان عبداللطیف القانوع کو قتل کر دیا گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فائر بندی معاہدے کے بعد سے ہونے والے اسرائیلی حملوں میں حالیہ دنوں میں قتل کیے جانے والوں میں سے وہ حماس کے اعلیٰ عہدے دار ہیں۔

الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق ترجمان عبداللطیف القانوع جبالیہ میں اپنے پناہ گزین کیمپ میں تھے جب ان کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

اسی حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

طبی ذرائع کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں مختلف حملوں میں کم از کم چھ افراد کی اموات ہوئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ہفتے کے شروع میں اسرائیل نے حماس کے سیاسی دفتر کے رکن اسماعیل برہوم اور ایک اور سینیئر رہنما صلاح البرداویل کو بھی قتل کر دیا تھا۔

حماس کے ذرائع کے مطابق، برداویل اور برہوم دونوں حماس کے 20 رکنی فیصلہ ساز ادارے یعنی سیاسی دفتر کے رکن تھے، جن میں سے 2023 سے اب تک 11 قتل کیے جا چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل نے بمباری اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کر کے دو ماہ پرانی فائر بندی ختم کر دی تھی۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بڑے فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے کم از کم 830 افراد قتل کیے جا چکے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایک لاکھ 42 ہزار فلسطینی ایک ہفتے میں غزہ میں در بدر ہوئے ہیں۔

یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان نے کہا کہ ’صرف ایک ہفتے میں 142,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔‘

ان کے مطابق غزہ کی تقریباً 90 فیصد آبادی سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جارحیت سے رواں سال جنوری کے درمیان کم از کم ایک بار بے گھر ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ نقل مکانی کی ہر لہر کے ساتھ، ہزاروں لوگ ’نہ صرف اپنی پناہ گاہ سے محروم ہو جاتے ہیں، بلکہ خوراک، پینے کے پانی اور صحت کی دیکھ بھال جیسی ضروری اشیا تک رسائی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا