گذشتہ سال میں نے ایک کتا پالنے کی ٹھانی۔ چھوٹا اپارٹمنٹ اور اوپر سے اپارٹمنٹ کے مینیجمنٹ کمیٹی کی جانب سے کتے پالنے پر پابندی نے میرے انتخاب کو بہت ہی محدود کر دیا۔
خیر فیصلہ کیا گیا کہ کتا تو پالنا ہے لیکن ایسی نسل کا جو چھوٹا سا ہو، دیکھنے میں پیارا ہو اور باقی رہی بات اپارٹمنٹ اور ہماری حفاظت کی تو یہ خوبی کتے میں ہونا ضروری نہیں تھا۔
سارے گھر والے کتے کی ایسی نسل کی تلاش میں پڑ گئے اور آخر کار فیصلہ کیا گیا کہ شیٹزو کتا لیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ہم اس بات سے باخبر تھے کہ چھوٹی نسل کے کتوں کے اپنے ہی موڈ ہوتے ہیں اور ان کو تربیت دینا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا کہ بڑے کتوں کو جیسے کہ جرمن شیفرڈ ہے۔
اور یہ بات کتنی درست نکلی۔ ہم اپنی کوکو کو کہتے بیٹھ جاؤ تو وہ چلنے پھرنے لگ جاتی ہے اور جب اسے کہیں سٹاپ تو مڑ کر ایسے دیکھتی ہے جیسے کہہ رہی ہو تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ مجھ سے رکنے کا کہو۔
میں کوکو سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوکو سویٹی باتھ روم جانا ہو تو بولو جانا ہے بجائے اس کے کہ قالین پر کر دو، دن میں کم از کم ایک بار تو باہر سیر کے لیے لے کر جانا ہی ہے، ناراض ہو جائے تو غصے کا اظہار جگہ جگہ پیشاب کر کے کرتی ہے۔ اپنا کھانا بھلے پڑا ہو لیکن وہی کھانا ہے جو ہم کھا رہے ہیں۔
جی بالکل میں نے اپنی کوکو کی تربیت نہیں کی۔ شاید تربیت اس لیے نہیں کر سکا کہ اپنے پاس اتنا صبر نہیں ہے کہ کتے کی تربیت کر سکوں اور کوئی پیشہ وار ٹرینر رکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ پیسے بہت مانگ رہے تھے۔
مختصراً، دراصل کتا پالنا صرف استحقاق ہی نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ کتے کو دو یا تین وقت کا کھانا کھلا دینا اور رہنے یا سونے کے لیے ایک کمرہ یا جگہ دے دینا ہی کافی نہیں ہے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ کے حقدار ہیں اور کہیں زیادہ اپنے مالک سے توقع کرتے ہیں۔ اپنی زندگی میں کتے کو لانے کا مطلب ہے کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بطور مالک ذمہ داریاں کیا ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کراچی میں دو جرمن شیفرڈ کتوں نے ایک شخص پر حملہ کردیا اور بری طرح زخمی کیا۔ کیس ہوا اور عدالتی کارروائی جاری تھی کہ دونوں پارٹیوں میں صلح بھی ہو گئی۔ صلح نامے میں لکھا ہے کہ کتوں کا مالک غیر مشروط معافی مانگے گا اور وہ اور اس کا خاندان ’خطرناک اور خونخوار‘ کتے نہیں رکھیں گے۔ آئندہ اگر وہ کتے پالیں گے تو کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے ساتھ رجسٹر کرائیں گے اور وہ کتے سڑک پر پیشہ وار کتے کے ہینڈلر اور زنجیر یا رسی کے بغیر نہیں لائے جائیں گے۔
چلو یہاں تک تو بات کچھ سمجھ آتی ہے کہ ان دو جرمن شیفرڈ کے مالک کی کوتاہی تھی کہ کتے ایسے شخص کے ساتھ سڑک پر نکلے ہوئے تھے جو ان کو نہ تو کنٹرول کر سکا اور نہ ہی کتوں نے اس کی بات سنی۔ یہ بھی درست ہے کہ جرمن شیفرڈ جیسے کتے جب آپ سڑک پر لے کر نکلیں تو باقی لوگ تو گھروں میں محصور نہیں ہوں گے بلکہ آپ کو چاہیے کہ کتوں کو پٹا باندھ کر سیر کرائیں۔
لیکن اس صلح نامے کی تیسری شق نے مجھے بہت پریشان کر دیا۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر ان دونوں کتوں کو مار دیا جائے اور اگر مالک کے پاس کوئی اور کتا ہے تو وہ بھی جانوروں کے ڈاکٹر کے حوالے کر دیا جائے۔
اس میں کتوں کا کیا قصور ہے؟ جرمن شیفرڈ نہایت ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ایکٹو اور ایتھلیٹک نسل ہے جن کو اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت زیادہ ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان کو زیادہ یا مناسب ورزش نہ ملے تو ممکنہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان کو روزانہ سیر کرائی جائے اور کھیل کود کرائی جائے۔ اور سب سے ضروری ہے کہ کتوں کو چھوٹے ہوتے سے ہی تربیت دی جائے۔ تربیت میں عام طور پر کتوں کا دوسرے کتوں اور انسانوں سے ملنا شامل ہوتا ہے۔
جس طرح ان کتوں نے حملہ کیا اور ان کا رکھوالا ان کو کھینچتا رہ گیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کتے تربیت یافتہ نہیں تھے۔ اور آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے نے بھی اس واقعے کے بعد کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے اور ہمسائیوں نے کئی بار ان کتوں کے حوالے سے ڈیفنس اتھارٹی کے دفتر میں شکایت کی۔
تربیت دینا تو مالک کا کام ہے نہ کہ کتے خود سیکھ جاتے۔ شاید مالک یہ بھول گئے تھے کہ ان کے پاس شیٹزو نہیں بلکہ جرمن شیفرڈ ہیں جو جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں ان کا جبلتی رویہ نمایاں ہونے لگتا ہے۔ اور اس رویے کو دبانے یا اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے تربیت بہت ضروری ہے۔
ان کتوں کو مار ڈالنے کے بجائے کسی ایسے شخص کے حوالے کیا جائے جو صرف ان کتوں کو حاصل کرنا اپنا استحقاق نہ سمجھے بلکہ ذمہ داریاں نبھائے۔ اگر آپ واقع اپنے کتوں سے پیار کرتے ہیں تو ان کی تربیت کریں، ان کی ورزش اور کھانے پینے کا خیال رکھیں۔