ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ایک چینی پروفیسر نے چین کی فوج کے ساتھ مل کر جینیاتی تحقیق کے لیے بندر کے دماغ کا مطالعہ کیا تھا تاہم انہوں نے چین کی فوج کے ساتھ اپنے تعلق کو ظاہر نہیں کیا تھا۔
یہ مطالعہ اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ چین کس طرح مغربی تعلیمی اداروں کی بائیوٹیکنالوجی جیسے حساس سٹریٹجک شعبے کو اپنے فوجی اور سویلین مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
چین کی فوج کے لیے ماضی میں کام کرنے والے پروفیسر گوجی ژانگ شینزین خطے کے بڑے جنیاتیی تحقیقی ادارے ’بی جی آئی گروپ‘ کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ یہ گروپ یونیورسٹی کے درجنوں محققین کو فنڈ فراہم کرتا ہے اور اس کا یورپی ہیڈکوارٹر اسی یونیورسٹی کے کیمپس میں ہی قائم ہے۔
ژانگ اور ان کے ایک طالب علم، جن کے کام کی وہ نگرانی کر رہے تھے، نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی لیبارٹری کے ساتھ مل کر ایک تحقیق پر کام کیا تھا جس میں بندروں کو انتہائی بلند مقام پر رکھا گیا تاکہ اونچائی پر ان کے دماغ کا مطالعہ کیا جا سکے اور دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے کے لیے نئی دوائیں تیار کی جا سکیں جو سرحدوں کے اونچے مقامات پر تعینات چینی فوجیوں کے لیے چینی حکومت کی ترجیح کی نشاندہی کرتی ہے۔
ژانگ نے جنوری 2020 میں پی ایل اے کے ایک میجر جنرل کے ساتھ اس مطالعے کو مشترکہ طور پر شائع کیا تھا۔
یونیورسٹی کے بائیوٹیکنالوجی شعبے کے سربراہ نیلز کروئر نے ایک ای میل کے ذریعے روئٹرز کو بتایا کہ یونیورسٹی اس وقت اس حقیقت سے لاعلم تھی کہ اس مطالعے میں چینی فوجی تحقیقی اداروں کے مصنفین بھی شامل تھے۔
ژانگ نے تصدیق کی کہ انہوں نے یونیورسٹی کو چینی فوج کے ساتھ اس تعلق کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا کیونکہ محققین کے لیے یونیورسٹی کو سائنسی مطالعوں میں شریک مصنفین کے بارے میں بتانا لازمی نہیں تھا۔ یونیورسٹی نے بھی ژانگ کے بیان کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب بی جی آئی گروپ نے کہا کہ پی ایل اے لیب کے ساتھ کیا گیا مطالعہ فوجی مقاصد کے لیے نہیں تھا اور دماغ کی تحقیق انسانی بیماریوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم شعبہ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم چین کی ’گورنمنٹ سائنس اکیڈمی‘ نے کہا ہے کہ اس تحقیق کے تبت کے سطح مرتفع خطے کے لیے دفاعی اور سویلین فوائد تھے۔
حالیہ برسوں میں چین کی جانب سے فوجی اور سویلین ٹیکنالوجی کے ملاپ اور ایسی یونیورسٹیوں کے بارے میں جو چین کو حساس ٹیکنالوجی منتقل کر رہی ہیں، کے حوالے سے امریکہ میں تشویش بڑھی ہے۔
واشنگٹن نے گذشتہ ماہ ایک نئی مشترکہ ٹیکنالوجی اور تجارتی کونسل کے تحت اس معاملے پر یورپی یونین کے ساتھ کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
رواں ماہ چین کی فوجی طاقت کے حوالے سے امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں بیجنگ پر چینی فوجیوں کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ڈنمارک کی یونیورسٹی کا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح چین بائیو ٹیکنالوجی کو فوجی استعمال کے لیے استعمال کر رہا ہے جو یورپ کی یونیورسٹیوں کے لیے بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔