نوشہرہ: ’ٹی ٹی پی کے حملے‘ میں تین پولیس اہلکار جان سے گئے

ریسکیو 1122 کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک پولیس وین پر فائرنگ کی۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

چار اگست، 2015 کو کراچی میں پولیس اہلکار ایک ایمبولنس کے لیے راستہ کلیئر کروا رہے ہیں (اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں ریسکیو 1122 نے بتایا کہ ہفتے کو ایک پولیس وین پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تین پولیس اہلکار جان سے گئے۔

ریسکیو 1122 نوشہرہ کے ترجمان محمد نبیل نے بتایا کہ پولیس وین اکوڑہ خٹک کی سریاخیل پولیس چوکی کی حدود میں تھی جب وہ فائرنگ کی زد میں آئی۔

انہوں نے بتایا کہ دو اہلکار موقعے پر جان سے گئے جبکہ ایک اہلکار امدادی کارروائی کے دوران دم توڑ گیا۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی پولیس سربراہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے آج کے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ٹی ٹی پی کے میڈیا کو جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ پولیس پر حملہ گھات لگا کر کیا گیا۔

ٹی ٹی پی نے رواں ہفتے حکومت پاکستان کے ساتھ گذشتہ ایک سال سے جاری مذاکرات اور اس کے نتیجے میں جنگ بندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹی ٹی پی نے ایک بیان میں اپنے کمانڈروں سے کہا تھا کہ وہ جہاں بھی موقع ملے پاکستان میں دوبارہ حملے شروع کریں۔

حکومت پاکستان کا ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کا دور رواں سال جون میں شروع ہوا تھا اور اس حوالے سے مختلف جرگے کابل میں ٹی ٹی پی کے رہنماؤں سے ملاقات کر چکے تھے۔

ایک حکومتی جرگے کی نمائندگی خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کر رہے تھے، جنھوں نے ٹی ٹی پی کے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

بیرسٹر سیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا، ’یہ افسوس ناک اعلان ہے کیونکہ حکومت نے ہمیشہ چاہا کہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکے لیکن ٹی ٹی پی نے فائر بندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔‘

(ایڈیٹنگ: بلال مظہر)

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان