پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان پر اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی اور ممنوعہ مادہ کی موجودگی اور استعمال پر تمام کھیلوں میں حصہ لینے پر دو سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
برطانیہ کے اینٹی ڈوپنگ (یو کے اے ڈی) نے فروری 2022 میں کیل بروک کے خلاف لڑائی کے بعد 36 سالہ کھلاڑی کے پیشاب کے نمونے حاصل کیے تھے۔
یو کے اے ڈی کی جانب سے منگل کو جاری فیصلے میں کہا کہ یہ کیس ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے کہ UKAD صاف ستھرا کھیل کے تحفظ کے لیے اینٹی ڈوپنگ اصول کی خلاف ورزیوں کی سختی سے پیروی کرے گا۔
عامرخان نے اپنے اوپر لگنے والی دو سال کی پابندی کو عجیب اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے سکائی سپورٹس کو بتایا، ’مجھے ابھی اس پابندی کے متعلق علم ہوا، میں فی الحال کوئی بیان نہیں دوں گا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’میں نے کبھی دھوکہ نہیں دیا۔ میں ایک ریٹائرڈ فائٹر ہوں اور آپ میری کارکردگی بھی سے دیکھ سکتے ہیں، کیل بروک کے خلاف میری کارکردگی بہترین نہیں تھی۔ میں وہ مقابلہ ہار گیا تھا۔
عامر خان کا کہنا تھا، ’جو مقدار میرے سسٹم میں پائی گئی، وہ لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی آ سکتی ہے۔ میں ایک بیان جاری کروں گا۔ میں ایک ریٹائرڈ فائٹر ہوں لہٰذا مجھ پر دو سال کی پابندی بہت عجیب اور مضحکہ خیز ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’ویسے بھی میں پہلے ہی ریٹائر ہو چکا ہوں لہذا واپسی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ لیکن اس طرح میں نے کبھی دھوکہ نہیں دیا اور میں کبھی بھی ایسا نہیں کروں گا۔‘
یو کے اے ڈی نے 6 اپریل 2022 کو عامر کو اس بارے میں مطلع کیا اور ان کی عارضی معطلی کا اعلان کیا، جس کا مطلب ہے کہ وہ اس بارے میں 12 ماہ سے جانتے تھے۔
اس کے بعد 20 جولائی 2022 کو ادارے نے باکسر پر ممنوعہ مادے کی موجودگی اور استعمال پر اینٹی ڈوپنگ قوانین کی دو خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔
عامر نے خلاف ورزیوں کو قبول کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ 'اوسٹرین کا استعمال جان بوجھ کر' نہیں کیا گیا تھا۔
عامر خان پر ایک سال قبل اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر دو سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔
اس کے بعد یہ معاملہ نیشنل اینٹی ڈوپنگ پینل کو بھیج دیا گیا تھا اور ایک آزاد ٹریبونل نے اس پر 24 جنوری 2023 کو سماعت کی تھی۔
21 فروری 2023 کو آنے والے تحریری فیصلے میں آزاد پینل نے انہیں دونوں خلاف ورزیوں کا قصوروار پایا لیکن اس نتیجے پر پہنچے کہ عامر خان نے یہ ثابت نہیں کیا تھا کہ ممنوعہ مادہ کا استعمال اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت 'جان بوجھ کر' کیا گیا تھا۔
یو کے اے ڈی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پروفیشنل باکسر اور اولمپک میڈلسٹ عامر خان پر ممنوعہ مادہ کی موجودگی اور استعمال پر اینٹی ڈوپنگ قواعد کی خلاف ورزی پر دو سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
یو کے اے ڈی کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پروفیشنل باکسر اور اولمپک میڈلسٹ عامر خان پر ممنوعہ مادہ کی موجودگی اور استعمال پر اینٹی ڈوپنگ قواعد کی خلاف ورزی پر دو سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اوسٹارین کیا ہے؟
اوسٹرین ایک سلیکٹیو اینڈروجن ریسیپٹر موڈیلیٹر (ایس اے آر ایم) ہے - ایک قسم کا طبی مرکب جو پٹھوں اور ہڈیوں جیسے ٹشو کی نشوونما کو تحریک دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ مادہ کسی بھی ملک میں انسانی استعمال کے لیے منظور نہیں ہے اور واڈا کی طرف سے کھیلوں میں ہر وقت ممنوع ہے۔
حالیہ برسوں میں اوسٹرین اور دیگر ایس اے آر ایم ز کے مثبت ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس میں کھلاڑیوں کو بلیک مارکیٹ چینلز سے مادہ حاصل کرنے کا امکان ہے۔
اوسٹرین دیگر مصنوعات میں پایا جا سکتا ہے - لیکن صرف غیرقانونی اور ایک ڈاکٹر کبھی بھی ایسا علاج یا دوا تجویز نہیں کرے گا جس میں یہ شامل ہو۔
یو ایس اے ڈی اے کے مطابق کچھ غذائی سپلیمنٹس میں ایس اے آر ایم جیسے اوسٹرین شامل ہوسکتے ہیں اور انہیں 'قانونی اسٹیرائڈز' یا 'صرف تحقیق' کیمیکلز کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پٹھوں کو ضائع کرنے والی متعدد بیماریوں بشمول کینسر، آسٹیوپوروسس اور ہائپوگوناڈیزم کے علاج کے لیے اوسٹرین میں دلچسپی موجود ہے۔
اوسٹرین ایم کے-2866 جسے اوسٹرین یا اینوبوسرم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ایک منتخب اینڈروجن ریسیپٹر موڈیلیٹر (ایس اے آر ایم) ہے جو باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس میں پٹھوں کی کمیت بنانے اور کم سے کم ضمنی اثرات کے ساتھ طاقت بڑھانے کی صلاحیت کی وجہ سے مقبول ہے۔
ایک کلینیکل ٹرائل میں اوسٹرین ایم کے-2866 کو صحت مند مردوں میں دبلے جسم کرنے کے ساتھ ساتھ چربی کو کم کرنے کے لیے پایا گیا تھا۔
عامر خان کو چھٹے راؤنڈ کے ذریعے اپنے دیرینہ حریف بروک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے فورا بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
ان پر پابندی کا اعلان عامر خان کے گڈ مارننگ برطانیہ پروگرام میں ایک دن قبل دکھائی دینے کے بعد سامنےآیا ہے جب انہوں نے گذشتہ سال بندوق کی نوک پر ڈکیتی کے اثرات کا انکشاف کیا تھا جہاں ان سے 72000 پاؤنڈ کی گھڑی چھین لی گئی تھی۔
عامر 18 اپریل کو مشرقی لندن کے علاقے لیٹن میں اپنی اہلیہ فریال کے ساتھ ایک ریستوراں سے نکل رہے تھے جب ان کا سامنا ایک مسلح ڈاکو سے ہوا جس نے ان سے ہیرے سے بنی گھڑی چوری کرلی۔