حال ہی میں ختم ہونے والی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2023 کے دوران کرکٹ کے میدان میں کئی مقابلے ہوئے لیکن ان میں ایک مقابلہ ایسا بھی تھا جو ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ یہ مقابلہ تھا اشتہارات سے زیادہ آمدن کا جو نشریاتی اداروں کے درمیان شروع ہوا۔
ویب سائٹ ایکسچینج فار میڈیا ڈاٹ کام کے مطابق یہ پہلا سال تھا جب آئی پی ایل کے ڈیجیٹل اور ٹی وی حقوق دو مختلف نشریاتی اداروں کے پاس رہے۔ دونوں اداروں نے پانچ سال تک ٹیلی ویژن نشریات کے لیے 23575 کروڑ انڈین روپے اور ڈیجیٹل حقوق کے لیے 20500 کروڑ انڈین روپے کی بڑی رقوم ادا کیں۔
اب ان ادائیگیوں سے کمانے کا وقت تھا۔
اگرچہ کاروباری کمپنیوں کا آپس میں مقابلہ کرنا مناسب ہے لیکن آئی پی ایل کے معاملے میں صورت حال مختلف تھی۔ دونوں کمپنیوں کے ایک دوسرے کے خلاف طنزیہ جملوں نے تفریحی صنعت کو پورے سیزن کے دوران مصروف رکھا۔ یہ معاملہ صرف اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے تک محدود نہیں تھا۔
مثال کے طور پر ٹورنامنٹ دکھانے کے لیے فیڈز کی تعداد، نشریات کا اعلیٰ معیار اور سٹریمنگ کی مفت دستیابی بلکہ دوسرے فریق کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا گیا۔
ہر میچ کے لیے ڈیٹا پر اٹھنے والے بھاری اخراجات اور دباؤ کی وجہ سے لوگوں کے پیچھے ہٹنے کے بارے میں غیر سرکاری اطلاعات گردش میں رہیں۔ ایک ادارے نے اپنے چینل کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی تو دوسرے نے اسے پرانا اور فرسودہ میڈیم قرار دیتے ہوئے نیچا دکھایا۔ مشہور شخصیات کو بھی جنگ میں گھسیٹا گیا جس کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔
خبریں دینے کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کے لیے دن کا آغاز بے تکی ٹیلی فون کالز اور پیغامات سے ہوتا ہے جن میں سے ہر ایک میں ہم پر دوسرے فریق کی حمایت کرنے یا کہانی میں اس کا پہلو کو اجاگر نہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
ٹورنامنٹ شروع ہوتے ہی میدان میں کرکٹرز سے زیادہ ریکارڈ براڈ کاسٹرز نے بنائے۔ تقریباً ہر روز ہر ایک نے ناظرین کے نئے ریکارڈ بنانے کا اعلان کیا۔ ناظرین کی یہ تعداد نہ صرف ہر میچ بلکہ شاید ہر اس لمحے کے لیے بھی تھی جس کی بنیاد پر نیا ریکارڈ بنایا گیا۔
براڈ کاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل (بی اے آر سی) کے ریکارڈ کے مطابق اس سیزن میں 50 کروڑ 50 ناظرین نے سٹار سپورٹس نیٹ ورک کی نشریات دیکھیں۔ متاثر کن 427.1 ارب منٹ تک نشریات دیکھی گئیں۔
سٹریمنگ پلیٹ فارم جیو سینیما نے دعویٰ کیا کہ ریکارڈ 44.9 کروڑ ناظرین آن لائن پلیٹ فارم پر آئی پی ایل کے میچ دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ 12.6 کروڑ اضافی ناظرین نے انٹرنیٹ کی سہولت سے آراستہ ٹیلی ویژن سے لاگ اِن کر کے میچ دیکھے۔ اس پلیٹ فارم نے آئی پی ایل فائنل کے لیے تین کروڑ 20 لاکھ ناظرین کے ساتھ ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
آمدن اور سپانسرشپ کی بات کرتے ہوئے اس بارے میں آف دی ریکارڈ کہانیاں سامنے آئیں کہ کس طرح ان میں سے ہر ایک (دونوں 2,000 کروڑ روپے سے زیادہ) کے ذریعے بڑے بڑے سپانسرشپ سودے پر دستخط کیے گئے ہیں اور ساتھ ہی ہر نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہونے والے برانڈز کی لمبی فہرستیں ہیں۔ بہت سی دوسری اشاعتوں کی طرح، یہاں تک کہ ہم بھی کچھ کہانیوں کے لیے گر پڑے۔
ایک سوال کا جواب تلاش کرنا باقی ہے کہ ان سب باتوں سے انہیں کیا ملا؟ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق بہت سا انتشار اور غیر واضح صورت حال پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے برانڈز اور اشتہاری ایجنسیاں مجبور ہو گئیں کہ وہ اپنے معاہدے کو آخر تک التوا کی حالت میں رکھیں۔
دونوں نشریاتی اداروں کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے کلائنٹس کو موقع مل گیا کہ زیادہ سے رعایت اور مفت سہولت حاصل کریں۔ سوچ کی جنگ، جس کا شاید یہ مطلب تھا کہ یہ دکھایا جائے کہ ایک فریق کی کارکردگی دوسرے سے بہتر ہے، اس جنگ میں بدل گئی کہ اس بات کو اچھالا جائے کون سا فریق کتنے بڑے مسئلے میں الجھا ہوا ہے۔
یہاں تک کہ ایونٹ ختم ہونے کے بعد آمدن کے اعداد و شمار کے بارے میں آف دی ریکارڈ دعوے جو ایک بار پھر دونوں طرف سے 20 ارب انڈین روپے سے زیادہ کے ہیں، کو منتخب ذرائع ابلاغ کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ایجنسی ان کی تصدیق کے لیے تیار نہیں۔
فریقین کے دعویٰ کردہ اعداد و شمار کو ملا بھی لیا جائے تو بمشکل اتنی رقم بنتی ہے جو ٹیلی ویژن نے گذشتہ آئی پی ایل میں کمائی۔ دونوں فریقین نے کھل کر کہا کہ گذشتہ سال کے مقابلے اس سال آمدن میں 20 سے 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر صنعت کے ذرائع کے فراہم کردہ تخمینوں کو مان لیا جائے تو آئی پی ایل سے سٹار سپورٹس کو اشتہارات کی مد میں ہونے والی آمدنی 2018 میں 1800 کروڑ روپے سے تقریباً دوگنی ہو کر 2022 میں 3800 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ڈزنی پلس اور ہاٹ سٹار کی 2018 میں 300 کروڑ روپے کی آمدن 2022 میں 800 سے 1000 کروڑ روپے ہو گئی۔
زیادہ تر ایجنسیاں دعویٰ کر رہی ہیں کہ اس سال ڈیجیٹل میڈیا نے گذشتہ سال کے مقابلے میں کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن بڑے ٹیکنالوجی کلائنٹس کی عدم موجودگی مارکیٹ کے حالات کے سبب ٹیلی ویژن کی آمدن 2022 کے مقابلے میں کم تھی۔
اگر ان اعداد و شمار کو مان لیا جائے تو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی آمدن میں گذشتہ سال ہاٹ سٹار کی آمدن کے مقابلے میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے لیکن یہ ٹیلی ویژن سے بہت کم ہے۔ دوسری طرف اشتہارات دکھانے کے زیادہ اخراجات، زیادہ خرچ کرنے والی ڈائریکٹ ٹو کنزیومر کمپنیوں کے نہ ہونے اور سٹارٹ اپ کلائنٹس کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ ٹی وی کی اشتہارات کی مد میں آمدن کم ہوئی۔
چوںکہ اس شعبے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں اس لیے ہمارے پاس صرف وہی رہ گیا ہے جس کا دعویٰ ہمارے ’ذرائع ‘ کر رہے ہیں۔ دونوں ایجنسیوں اور براڈ کاسٹرز کو پریشانی صرف یہ ہے کہ ہر کمپنی کے تخمینوں کے درمیان تقریباً 500 سے 1000 کروڑ روپے کا فرق ہے۔
سوال یہ ہے کہ کاروباری فیصلے یا حکمت عملی کے قابل عمل ہونے کو کس طرح سمجھا جائے۔ اس صنعت میں محض سوچ کتنی مدد فراہم کر سکتی ہے جو بالآخر ڈیٹا اور اعداد و شمار کی بنیاد پر چلتی ہے؟
ایک اور سوال بتنا ہے کہ برانڈز نے آئی پی ایل پر اتنا خرچ کیوں نہیں کیا جتنی ان سے توقع تھی۔ ناظرین کی ریکارڈ توڑ تعداد کے باوجود پیسہ کیوں نہیں کمایا جا سکا؟