نیوزی لینڈ کی قابل فخر کھلاڑیوں کو امید ہے کہ ورلڈ کپ سے ان کے جلد انخلا کے دکھ کے باوجود ملک میں خواتین فٹ بال کے لیے یہ مقابلے اہم موڑ ثابت ہوں گے۔
اتوار کو ڈونیڈن میں 25 ہزار شائقین کے سامنے گروپ مرحلے میں ٹورنامنٹ کی شریک میزبان ٹیم نیوزی لینڈ کے ایونٹ سے نکل جانے کے بعد کچھ کھلاڑیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
سوئٹزرلینڈ کے ساتھ 0-0 سے مقابلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ ناروے کے ساتھ چار پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر رہے لیکن ناروے کی ٹیم صرف بہتر گول کے فرق کی بدولت سوئٹزرلینڈ کے ساتھ آخری 16 ٹیموں میں شامل ہوگئی۔
یہ وہ اختتام نہیں تھا جو فٹ بال کے شائقین چاہتے تھے لیکن ان خواتین کھلاڑیوں نے اب بھی روایتی طور پر رگبی کے دیوانے ملک میں کھیل کے کئی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
انہوں نے ٹورنامنٹ کا آغاز سابق چیمپیئن ناروے کو 1-0 سے شکست دے کر کیا، جو مردوں اور خواتین کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کی پہلی فتح تھی۔
یہ تاریخی فتح آکلینڈ کے ایڈن پارک میں 42 ہزار سے زائد افراد کے سامنے حاصل کی گئی، جو نیوزی لینڈ میں فٹ بال کے لیے ریکارڈ ہے۔
اس کے بعد فلپائن کے ہاتھوں شکست اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ڈرا کافی نہیں تھا۔ اس سے بہت سی کھلاڑی پریشان ہوئی تھیں۔
لیکن مایوسی نے جلد ہی ملک میں فٹ بال کے مستقبل کے لیے فخر اور امید کی راہ ہموار کردی۔
پانچ عالمی کپ جیتنے والی کپتان علی رائلی کا کہنا ہے کہ وہ جذباتی طور پر اتنا صدمہ محسوس نہیں کر رہی تھیں، جتنا کہ ٹیم کے ابتدائی میچوں سے باہر ہونے کے بعد ہوئی تھیں۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والی دفاعی کھلاڑی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’میں نے دوسرے ٹورنامنٹس اور اولمپکس کو چھوڑ دیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہم پلٹ سکتے ہیں یا نہیں اور مجھے نہیں معلوم کہ اس پروگرام کا مستقبل کیسا ہوگا۔ اس وقت مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فٹ بال ٹیم کے تینوں میچ کی تمام ٹکٹیں فروخت ہو گئیں اور مقامی میڈیا نے بھی اسے خوب کوریج دی۔
یہاں تک کہ ملک کی مشہور مردوں کی رگبی ٹیم آل بلیکس کو بھی کھیلوں کے بلیٹن میں دوسرے نمبر پر کر دیا گیا تھا۔ خواتین کی سابق بین الاقوامی کھلاڑی کرسٹی ہل نے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا کہ وہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ دلچسپی عارضی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ’اس ٹورنامنٹ کے آغاز میں نیوزی لینڈ کے لوگ خواتین کی فٹ بال سے واقف نہیں تھے۔ وہ فٹ بال فرنز کو وائٹ فرنز (خواتین کرکٹ ٹیم) کہتے رہے۔
’یہ لڑکیاں گھریلو نام نہیں تھیں اور یہ سب کچھ اچانک ایڈن پارک میں تبدیل ہوگیا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں چاہتی تھی کہ وہ اگلے مرحلے تک پہنچیں، لیکن جہاں تک ملک کے دل و دماغ جیتنے کی بات ہے، انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘
چھوٹے قدم
نیوزی لینڈ کی خواتین ٹیم عالمی درجہ بندی میں 26 ویں نمبر پر ہے اور ہوم گراؤنڈ پر اس سے توقعات زیادہ نہیں تھیں۔
انہیں ٹورنامنٹ سے قبل 12 میچوں میں سے محض ایک جیت حاصل ہوسکی تھی۔
سابق چیک بین الاقوامی کھلاڑی اور نیوزی لینڈ کی کوچ جتکا کلیمکووا اپنے چھ سالہ معاہدے کا آدھا وقت مکمل کر چکی ہیں اور توقع ہے کہ وہ اس عہدے پر برقرار رہیں گے۔
ان کا ماننا ہے کہ ان کی ٹیم کی کوشش نے مستقبل میں کامیابی کو یقنی بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب نیوزی لینڈ سمجھ گیا ہے کہ فٹ بال فرنز کون ہیں۔
’مجھے لگتا ہے کہ صبر اور چھوٹے قدم اٹھانے سے ہم قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں، اسی طرح ہم اپنے سفر کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس ٹیم میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے، بہت سی نوجوان کھلاڑی ہیں جنہیں ورلڈ کپ اور اولمپکس میں کھیلنے کا ایک اور موقع ملے گا۔
’یہاں ہماری کارکردگی ٹھوس تھی اور ہم اسی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں گے۔‘