سپریم کورٹ نے ہفتے کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان پر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد سابق حکمران جماعت اگلے ماہ الیکشن میں بلے کا نشان استعمال نہیں کر سکے گی۔
آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے طویل سماعت کے بعد رات گئے اپنا متفقہ فیصلہ سنایا۔
چیف جسٹس نے فیصلے سنانے سے قبل فیصلے میں تاخیر پر معذرت کی اور کہا کہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔
بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
انہوں نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے انٹر پارٹی انتخابات کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئیں، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو پی ٹی آئی انتخابات کا فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ’پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کا حکم الیکشن کمیشن نے 2021 میں کروانے کا حکم دیا، پی ٹی آئی ناکام رہی۔‘
’الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی الیکشن درست نہ کروانے پر بلے کا نشان پی ٹی آئی سے واپس لیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی فری اینڈ فیئر الیکشن کروانے میں ناکام رہی۔‘
چیف جسٹس نے قرار دیا کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ای سی پی کو انٹراپارٹی انتخاب کے جائزے کا اختیار نہیں، بادی النظر میں کوئی شواہد نہیں کہ پی ٹی آئی نے شفاف الیکشن کرائے، پی ٹی آئی کے پاس آئین کے مطابق اراکین کو نکالنے کا ثبوت نہیں۔
انہوں نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، پشاور ہائی کورٹ کو لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمے کے بارے میں نہیں بتایا گیا، الیکشن کمیشن تحریک انصاف کو 24 مئی 2021 سے انتخابات کروانے کا کہہ رہا ہے اور اس نے 13 دوسری سیاسی جماعتوں کے خلاف بھی انتخابات نہ کروانے پر احکامات دیے۔
’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن ٹارگٹ کر رہا ہے۔‘
’بلا رہے نہ رہے عوام عمران خان کو ووٹ دیں گے‘
فیصلہ آنے کے بعد بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی بنیادوں پر فیصلہ آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں بھی چلی گئیں۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق بلا رہے یا نہ رہے عوام عمران خان کو ہی ووٹ دیں گے۔
پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار اب آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آئیڈیا تھا کہ فیصلہ کیا آئے گا لہٰذا انہوں نے مکمل تیاری کی ہے۔
’فیصلہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کرے گا‘
پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن جانے والے اکبر ایس بابر نے فیصلے کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کرے گا۔
’جس موقف پر ہم نے طویل جدوجہد کی کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بنیاد ہیں اور بنیاد کمزور ہو تو اس پر مضبوط عمارت قائم نہیں ہو سکتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے فیصلے نے اس موقف کی تائید کی اور جمہوری عمل اب مزید آگے بڑھے گا۔
گذشتہ روز اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں سقم ہیں۔‘
ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ’الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق اصل فائل بھی ہفتے کو فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سماعت کا احوال
آج صبح جب الیکشن کمیشن کی پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان اور پی ٹی آئی چیئرمین اور بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آئے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور ہائی کورٹ کا حکم نامہ پڑھنے سے متعلق استفسار کیا، جس پر وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ انہوں نے فیصلہ پڑھ لیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما و وکیل علی ظفر نے کہا: ’الیکشن کمیشن کے پاس کوئی دائرہ اختیار نہیں کہ وہ انٹرا پارٹی انتخابات کا جائزہ لے اور ان کو کالعدم قرار دے یا کسی ایسی سیاسی جماعت کو نشان الاٹ نہ کرے جس پر بے ضابطگی کا الزام لگایا گیا ہو۔‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہا: ’سیاسی جماعت ایک نشان پر آئین کے مطابق الیکشن میں حصہ لیتی ہے، کسی سیاسی جماعت کو نشان الاٹ نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 17 دو کی خلاف ورزی ہے جو سیاسی جماعتیں بنانے کا اختیار دیتا ہے اور جس کی تشریح عدالت عظمیٰ کر چکی ہے۔ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں ہے۔ انتخابی نشان انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے نہیں روکا جا سکتا، انتخابی نشان کے ساتھ لڑنا سیاسی جماعت کے حقوق میں شامل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی سلوک کیا۔ جماعت کے کسی رکن نے انٹرا پارٹی انتخابات چیلنج نہیں کیے، وہ صرف سول کورٹ میں چیلنج ہو سکتے تھے۔ کمیشن کے پاس سو موٹو کا اختیار نہیں کہ اپیل بھی خود کرے اور فیصلہ بھی۔‘
دوران سماعت سابق وزیراعظم نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے کیس کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا ’جب آپ اقتدار میں ہوتے ہیں تو تب اصول کیوں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں؟ ہم یہ باتیں نہیں کرنا نہیں چاہتے تھے، سال 2018 میں ایک پارٹی صدارت کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے ختم کر دیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’کچھ لوگ اس فیصلے کا شکار ہوئے جبکہ اس فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جو انہیں میسر نہیں تھے۔‘
چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ اس ایوان کے رکن ہیں وہ سمجھ گئے ہوں گے۔
’پی ٹی آئی بار بار لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتی ہے، کسی جماعت کو لیول پلیئنگ فیلڈ کے نام پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔‘
چیف جسٹس نے کہا پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کروائے ہی نہیں، اگر انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تو پی ٹی آئی ثبوت پیش کرے۔
وکیل علی ظفر نے کہا الیکشن کمیشن نے کہا انتخابات ہوئے مگر غلط طریقے سے ہوئے۔
چیف جسٹس نے سماعت کے دوران علی ظفر سے سوال کیا کہ ’سارے مسئلے آپ کی جماعت کے ساتھ کیوں ہو رہے ہیں؟‘
اس موقعے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہر انتخابات میں کوئی نہ کوئی شکایت کرتا ہے، یہ بہت کم ہوا ہوگا کہ کسی نے شکایت نہ کی ہو۔‘
جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ’اکبر ایس بابر جماعت کے بنیادی رکن نہیں۔‘
جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مت کہیں کہ وہ بنیادی رکن نہیں، مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ آپ رکن ہیں؟‘
وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ ’گذشتہ روز مخدوم علی خان نے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کیے تھے، ان کا نکتہ پارٹی کے اندر جمہوریت کا تھا۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا: ’جمہوریت ملک کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے۔ کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں۔ آمریت ہمیشہ گھر سے شروع ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اکبر ایس بابر بانی رکن تھے، وہ پسند نہیں تو الگ بات لیکن ان کی رکنیت تو تھی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزار پارٹی رکن نہیں تھے، انہوں نے اگر استعفیٰ دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں۔‘
جس پر بیرسٹر علی ظفر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی سے ماضی میں تلوار کا نشان لیا گیا، پھر پی پی پی پارلیمنٹیرین بنی۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’مسلم لیگ ن نے ابھی ایسا ہی وقت دیکھا لیکن اس وقت حکومت میں کون تھا یہ بھی دیکھنا ہے، آج پی ٹی آئی کے مخالفین حکومت میں نہیں ہیں۔‘
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے جب کارروائی شروع کی تو اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی، کیا آپ حقائق میں بدنیتی کے الزام کو واپس لے رہے ہیں؟‘
علی ظفر نے جواب دیا کہ وہ حقائق میں الیکشن کمیشن کی بدنیتی کے الزام کو واپس لیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جسے لوگ کنٹرول کرتے ہیں، کل کچھ جاسوس کسی سیاسی جماعت میں گھس جائیں۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا پیش کر کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ الیکشن ہو گئے، الزام یہ ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن محض کاغذ کا ٹکڑا ہے۔
’ایک ٹکڑا دکھا کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انتخابات کروا دیے، یہ دیکھنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن مروجہ طریقہ کار سے ہوئے یا نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی خود اپنے آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر الیکشن کمیشن دو لاکھ جرمانہ کر سکتا ہے لیکن ساتھ ہی آپ کہتے ہیں کہ باقی اختیار کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ اکبر ایس بابر کی برطرفی کی دستاویز دیں، ورنہ انہیں پارٹی رکن تسلیم کریں گے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ الزام کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہو کر کچھ کر رہی ہے، ہم اس بات کو یقینی طور پر سنیں گے۔‘
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا: ’ملک میں انتخابات جبری طور پر بھی ہوتے رہے ہیں۔ کل قومی اسمبلی کی نشستوں پر بلا مقابلہ انتخابات ہوئے تو میں تسلیم نہیں کروں گا۔ لولی لنگڑی جمہوریت نہیں پوری جمہوریت ہونی چاہیے۔ بس اب بہت ہوگیا ہے، عقل و دانش بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘
چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مبینہ طور پر آج فوج کی مداخلت نظر نہیں آ رہی۔ آپ یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ فوج مداخلت کر رہی ہے، جب آپ حکومت میں تھے تو ہمیں وہ حالات بھی دیکھنے ہوں گے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اداروں پر الزامات نہ لگائیں، اگر وہ سچے ہیں۔ اچانک سے یہ الزام لگا دینا کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہو کر کچھ کر رہی ہے، ہم اس بات کو یقینی طور پر سنیں گے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’سوال یہ اٹھتا ہے انہیں اس وقت یہ سب کیسے معلوم تھا؟ اس اسٹیبلشمنٹ پر اس وقت آپ کا یہ الزام نہیں ہو گا کہ یہ الیکشن کمیشن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اگر آپ اسے ڈرامائی اور سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں تو پورا متن بیان کریں یا اپنے کیس کو قانون تک محدود رکھیں۔‘
چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ ’نیاز اللہ نیازی کب پی ٹی آئی میں شامل ہوئے؟‘
وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ ’سال 2009 میں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، نئے چہرے آئیں تو سیاسی جماعت پر سیاسی قبضہ بھی تصور ہو سکتا ہے۔ پرانے لوگوں کی الگ بات ہے، نئے لوگ جماعت میں آئیں تو شکوک پیدا ہوتے ہیں۔‘
وکیل نیاز اللہ نیازی نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے میرے بیٹے کے لائسنس انٹرویو میں بھی پی ٹی آئی کے سوالات پوچھے تھے، آپ میری تذلیل کر رہے ہیں۔‘
جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’مجھے علم ہی نہیں کہ نیاز اللہ نیازی کا کوئی بیٹا بھی ہے، اگر ایسے کرنا ہے تو ہم اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ کیا ہم نیاز اللہ جیسوں کو نوٹس جاری کریں؟ نیاز اللہ نیازی کو نوٹس کرتا ہوں، میری عدالت میں کبھی پیش نہیں ہو سکیں گے۔‘
چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’یہ پی ٹی آئی کے وکیلوں کا بات کرنے کا طریقہ ہے؟‘
جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ وہ معذرت کرتے ہیں، ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
’پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن میں پورا پینل ہوتا ہے‘
وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہاں لکھا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے لیے پینل ہونا لازمی ہے؟ کیا اکیلا کوئی شخص انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وکیل علی ظفر نے اس پر جواب دیا: ’پی ٹی آئی میں اکیلا شخص انٹرا پارٹی الیکشن نہیں لڑ سکتا، پورا پینل ہوتا ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا اکر کوئی فرد انٹرا پارٹی الیکشن نہیں لڑتا مگر وہ ووٹ تو کاسٹ کر سکے گا، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک بھی شخص نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔
’ایسے تو پی ٹی آئی آمریت کی طرف جا رہی ہے، کسی اور کو پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات لڑنے ہی نہیں دیے۔‘
چیف جسٹس نے کہا سینیٹ میں بھی اگر ایک بھی ووٹ نہ پڑے تو وہ منتخب نہیں ہوتے جس پر وکیل علی ظفر نے کہا وہ ایوان بالا میں بلامقابلہ سینیٹر بنے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ’پی ٹی آئی کی پوری باڈی بغیر مقابلے کے آئی، پی ٹی آئی میں لوگ الیکشن سے نہیں سلیکشن سے آئے۔ پی ٹی آئی نے مخالف جماعتوں کو خود تنقید کا موقع دیا ہے۔‘
وکیل علی ظفر نے کہا پی ٹی آئی اسلام آباد میں انٹرا پارٹی الیکشن کروانا چاہتی تھی مگر کوئی جگہ دینے کو تیار نہیں تھا۔
چیف جسٹس نے کہا: ’سیاسی جماعت کا تو نام ہوتا ہے وہ لوگ کون ہوتے جو ملک چلاتے ہیں۔ ملک چلانے والے کون ہوتے ہیں عوام کو پتہ چلنا چاہیے۔‘
وقفے کے بعد دلائل کے جواب میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا یہ بات تو واضح ہو گئی کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں۔
گھر پر حملہ اور اہل خانہ پر تشدد ہوا: پی ٹی آئی چیئرمین گوہر خان
دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے اپنی فیملی پر تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’گھر پر کچھ لوگ آئے تھے، فیملی پر تشدد کیا۔ چار ڈالے (گاڑیاں) آئے تھے، کمپیوٹر اور دستاویزات لے کر چلے گئے۔ میرے بھیتجے اور بیٹے کو مارا، میرے پاس ابھی خبر آئی ہے۔‘
سماعت کے دوران وکیل گوہر خان نے کہا، ’میرے بیٹے اور بھتیجے کو مارا گیا ہے اور سارے کاغذات لے کر چلے گئے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے کہا ایسا نہیں ہونا چاہیے، انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’اگر ایسا ہوا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھتے ہیں اور یہ کہہ کر وہ عدالت سے روانہ ہو گئے۔
بیرسٹر گوہر کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ:
”فیملی پر تشدد، 4 ڈالے آئے تھے، کمپیوٹر اور دستاویزات لے کر چلے گئے، میرے بھیتجے کو مارا، بیٹے کو مارا، ابھی میرے پاس خبر آئی ہے”بیرسٹر گوہر نے چلتی عدالت میں چیف جسٹس کے سامنے بیان کر دیا۔ pic.twitter.com/hezmf88GR5
— PTI (@PTIofficial) January 13, 2024
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے اس معاملے میں موقف دیا کہ ’اشتہاریوں کی تلاش‘ میں ایک گھر پہنچی جہاں پتہ چلا وہ گھر بیرسٹر گوہر کا ہے اور پولیس پھر واپس آگئی۔
’ نہ ہی کسی پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزات اٹھائی گئیں ہیں۔‘
ابھی اطلاع ملی ہے کہ بیرسٹر گوہر کے گھر پولیس پہنچی ہے۔
پولیس ایک اطلاع پر اشتہاریوں کی تلاش میں ایک گھر پہنچی۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر بیرسٹر گوہر کا ہے ۔ اور پولیس واپس آگئی۔
نہ ہی کسی پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزات اٹھائی گئیں ہیں ۔
یہ…
— Islamabad Police (@ICT_Police) January 13, 2024
وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو روسٹرم پر طلب کر لیا۔
چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا: ’ہمارے سامنے ایک شکایت آئی جو ناقابل برداشت ہے۔‘
آئی جی اسلام آباد نے کہا اطلاعات کے مطابق کچھ اشتہاریوں کی اطلاع پر بیرسٹر گوہر کے گھر پولیس گئی۔
چیف جسٹس نے آئی جی کو ہدایت دیتے ہوئے کہا: ’یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے ہر شہری کو تحفظ دینا ان کا حق ہے۔ فورا بیرسٹر گوہر کے گھر جائیں اور ساری معلومات لیں۔‘ اس کے بعد چیف جسٹس نے تحریری جواب طلب کر لیا۔
پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن اور بلے کے نشان پر عدالتی پیش رفت
الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو اپنے ایک فیصلے میں پی ٹی آئی کی طرف سے کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس جماعت کو بلے کا انتخابی نشان نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے 26 دسمبر 2023 کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا، جس کے خلاف الیکشن کمیشن نے نظر ثانی کی اپیل دائر کی تھی اور تین جنوری 2024 کو جسٹس اعجاز خان نے کمیشن کے فیصلے کو بحال کر دیا۔
تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پھر اس فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کی سماعت 10 جنوری 2023 کو جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشاد علی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی اور پی ٹی آئی، الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کو بلے کا نشان واپس کر دیا، تاہم الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کروائے گئے اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔