پتھر کے دور کی بستی نے موسمیاتی بحران کا مقابلہ کیسے کیا؟

سائنس دانوں کا پہلے خیال تھا کہ ماحولیات میں اچانک تبدیلی بحیرہ روم کے ساحلوں پر آباد بستیوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا باعث بنی لیکن یہ بستی نہ صرف قائم و دائم رہی بلکہ ترقی کی منازل بھی طے کرتی رہی۔

تحقیقی ٹیم کے غوطہ خور اسرائیل کے ساحل کے قریب قدیم زیر آب گاؤں کی باقیات کا جائزہ لے رہے ہیں (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو)

اسرائیل کے کارمیل ساحل پر ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے زیرِ آب کھدائی سے ایک قدیم گاؤں دریافت ہوا ہے جو چھ ہزار دو سو سال قبل مسیح کے قریب ماحولیاتی بحران کے دوران نہ صرف قائم و دائم رہا بلکہ پروان بھی چڑھا۔

محققین کے مطابق یہ دریافت پتھر کے زمانے کے موسمیاتی بحران کے دوران بحیرہ روم کے آس پاس لیوانٹ اینڈ ایسٹر کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی (قدرتی آفات کے خلاف) مزاحمت پر مزید روشنی ڈال سکتی ہے۔

سائنس دانوں کا پہلے خیال تھا کہ اسی عرصے کے دوران عالمی ماحولیات میں اچانک تبدیلی بحیرہ روم کے ساحلوں پر آباد بستیوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا باعث بنی۔

لیکن نئے تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم ایک گاؤں، جس کے بارے میں پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ اسے بھی ترک کر دیا گیا تھا، نہ صرف آباد رہا بلکہ اس پورے عرصے میں خوب پھلتا پھولتا بھی رہا۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو سے وابستہ اس تحقیق کے شریک مصنف ٹامس لیوی نے کہا: ’یہ انسانی مزاحمت کے بارے میں ہے۔‘

ہیبونیم نارتھ نامی اس قدیم گاؤں کو سب سے پہلے 2010 کی دہائی کے وسط میں اسرائیل کے کارمیل ساحل کے قریب دریافت کیا گیا تھا۔ ابتدائی سروے میں قدیم موسمیاتی بحران کے دور میں بحیرہ روم کے ساحلوں کے ساتھ انسانی آبادیوں کے بہت کم ثبوت پیش کیے تھے۔ اس موسمیاتی بحران کو 8.2ka ایونٹ کے نام سے جانا جاتا ہے جو 8,200 سال پر محیط ہے۔

پھر کرونا لاک ڈاؤن کے دوران محققین نے اس جگہ پر مزید اور مکمل کھدائی کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین آثار قدیمہ نے تعمیرات کے نشانات، مٹی کے برتنوں، پتھر کے اوزار، عام ہتھیاروں اور ماہی گیری کے جال کے باندھے جانے والے وزن کے ساتھ ساتھ پودوں اور جانوروں کی باقیات بھی دریافت کیں۔

محققین نے جنگلی اور پالتو جانوروں کی ہڈیاں، جنگلی پودوں کے جلے ہوئے بیج، گندم اور دال جیسی فصلوں کے فوسلز اور ان فصلوں کے ساتھ اگنے والی گھاس پھونس بھی دریافت کی۔

اس نامیاتی مواد کی تاریخ ’ارلی پاٹری نیولیتھک‘ (برتن بنانے کا ابتدائی پتھر کا زمانہ) دور سے ملتی ہے جب کہ مٹی کے برتنوں کی ایجاد اور 8.2ka نامی موسمیاتی بحران بھی اسی دور میں رونما ہوا تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ سائنس دان اس مقام پر ہونے والی سرگرمی کو ’لیٹ پاٹری نیولیتھک‘ بھی بتاتے ہیں جب کہ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس گاؤں کو ترک کر دیا گیا تھا۔

اس مقام پر پائے جانے والے قدیم اشیا جیسے بیسالٹ (سیاہ پتھر جو قدرتی طور پر بحیرہ روم کے ساحل کے اس حصے میں نہیں ملتا تھا) سے بنے اوزار اور ایک رسومات کے لیے استعال ہونے والے عصا کے دستے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ ممکنہ طور پر سمندر پار تجارت کرتے تھے۔

تحقیق کے نتائج اس گاؤں کی متنوع معیشت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا صرف کاشتکاری پر انحصار نہیں تھا اور اس موسمیاتی بحران کے دور میں سمندری سرگرمیوں اور تجارت سے ایک الگ ثقافتی شناخت کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔

مطالعہ کے سینئر مصنف آصف یاسر لنڈاو نے کہا: ’اس (مطالعے) سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’ارلی پاٹری نیولیتھک‘ معاشرے میں ہیبونیم نارتھ ایک ایسی بستی تھی جن نے کثیر سطحی مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 8.2ka موسمیاتی بحران کا مقابلہ کیا۔‘

سائنس دانوں کا قیاس ہے کہ یہ موسمیاتی بحران لورینٹ ٹائڈ (Laurentide) دور کی برف کے آخری خاتمے سے شروع ہوا تھا جس نے شمالی امریکہ کے زیادہ تر منظر نامے کو تشکیل دیا تھا۔

ان کا ماننا ہے کہ برف کی اس چادر کے پگھلنے نے ممکنہ طور پر دنیا بھر میں سمندری دھاروں کے بہاؤ کو تبدیل کیا جس سے گرمی کی نقل و حمل متاثر ہوئی اور عالمی درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی۔

موسمیات کے عدم استحکام کے اس دور میں ایک پائیدار اور ارتقا پذیر معاشرے کی دریافت پتھر کے زمانے کے ابتدائی معاشروں میں ایسی مزاحمت کی نشاندہی کرتی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔

جیسا کہ مطالعے کے ایک اور مصنف روئے نِکیلسبرگ نے کہا: ‘بہت سے ماہرین آثار قدیمہ نے اس سے قبل صرف تہذیبوں کے خاتمے کو دیکھا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ تباہی اور ترک شدہ بستیوں کی بجائے انسانی ثقافت کی ترقی کو دیکھنا شروع کریں۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق