کامران غلام نے منگل کو اپنے ڈیبیو پر سینچری بنا کر ملتان میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستان کے سکور کو 259 رنز تک پہنچا دیا۔
29 سالہ کامران آؤٹ آف فارم بابر اعظم کی جگہ اس وقت کریز پر آئے جب 19 زنز پر پاکستان اپنی دو وکٹیں گنوا بیٹھا تھا۔ اس مشکل صورت حال میں کامران نے انگلینڈ کی جارحانہ باؤلنگ اور فیلڈنگ کو ناکام بناتے ہوئے شاندار 118 رنز بنائے۔
دن کے اختتام پر محمد رضوان اور سلمان آغا بالترتیب 37 اور پانچ رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جب کہ ٹیم کے پانچ بلے باز پویلین لوٹ چکے ہیں۔
2020 کے سیزن میں 1,249 رنز بنانے کے بعد کامران غلام کو پاکستانی ٹیم میں جگہ کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔
کامران غلام نے تیسری وکٹ کے لیے صائم ایوب کے ساتھ 149 رنز کی شراکت داری سے ٹیم کو مشکل صورت حال سے نکالا۔ صائم نے بھی اپنے کیرئیر کی بہترین ٹیسٹ کارکردگی دکھاتے ہوئے 77 رنز بنائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کامران اپنے پہلے ٹیسٹ میں سینچری بنانے والے پاکستان کے 12ویں بلے باز بن گئے۔
سٹمپ سے صرف آدھا گھنٹہ قبل کامران غلام انگلش سپنر شعیب بشیر کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔ ان 118 رنز میں 11 چوکوں اور ایک چھکا بھی شامل تھا۔
انگلینڈ نے وکٹ حاصل کرنے کے لیے ایک شارٹ مڈ آف اور دو مڈ وکٹ فیلڈرز کا لگائے لیکن ملتان کی پچ، جو پہلے ٹیسٹ کے لیے بھی استعمال کی گئی تھی، نے شروع کے اوقات کے بعد سپنرز کو کم ہی مدد فراہم کی۔
انگلش ٹیم کی جانب سے لیچ نے دو جبکہ شعیب بشیر، کارس اور پوٹس نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل عبداللہ شفیق آٹھویں اوور میں 15 کے مجموعی سکور پر سات رنز بنا کر لیچ کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔
اس کے بعد کپتان شان مسعود بھی لیچ کے ہاتھوں تین رنز پر ایک آسان کیچ تھما کر چلتے بنے۔
انگلینڈ کو تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر سے برتری حاصل ہے