امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے بدھ کو سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی، جس کے دوران دو طرفہ تعلقات اور تعاون سمیت غزہ اور لبنان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس بات چیت میں علاقائی اور بین الاقوامی حالات خاص طور پر غزہ اور لبنان کی صورت حال، فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے اور سلامتی اور انسانی ہمدردی کے حوالے سے مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کا احاطہ کیا گیا۔
سعودی عرب کی جانب سے اس ملاقات میں وزیر مملکت، کابینہ کے رکن اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر موسیٰ بن محمد العیبان اور جنرل انٹیلی جنس کے صدر خالد بن علی الحمیدان نے شرکت کی۔
امریکہ کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی سفیر مائیکل رٹنے اور اینٹنی بلنکن کے ہمراہ آنے والے وفد نے اجلاس میں شرکت کی۔
اس سے قبل بدھ کو ہی امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے تل ابیب کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں اسرائیل کو ایران کے ساتھ مزید کشیدگی بڑھانے سے روکتے ہوئے کہا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے‘ کہ غزہ میں جنگ کو ختم کیا جائے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سات اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی کی غزہ پر جاری جارحیت کے دوران اینٹنی بلنکن نے 11 دفعہ مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی کہا کہ اینٹنی بلنکن نے اپنے دورے میں غزہ میں تنازعے کو ختم کرنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اینٹنی بلنکن نے زور دیا کہ ’تمام قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں تنازعے کو ایسے ختم کرنا ہے، جس سے اسرائیلیوں اور فلسطییوں میں دیرپا تحفظ قائم رہے۔‘
غزہ میں امداد کی ترسیل کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پیش رفت ہو رہی ہے، جو کہ اچھی ہے، مگر مزید پیش رفت کی ضرورت ہے اور اسے قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
ایران کی جانب سے اسرائیل پر یکم اکتوبر کو ہونے والے میزائل حملے کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’یہ بہت اہم ہے کہ اسرائیل ان طریقوں سے جواب دے کہ مزید کشیدگی نہ ہو۔‘
نتن یاہو سے ہونے والی ملاقات میں بلنکن نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی موت کے بعد غزہ میں فائربندی پر کام کرے۔
61 سالہ یحییٰ سنوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے چند منصوبہ سازوں میں سے ایک تھے۔
اینٹنی بلنکن نے غزہ میں امداد کی ترسیل پر زور دیا کیونکہ ہزاروں افراد اسرائیلی جارحیت کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں یا پناہ لینے پر مجبور ہیں تاہم اسرائیلی حملوں سے بمشکل کوئی جگہ محفوظ ہے۔
اسرائیل سے واپس جاتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ایک سال قبل سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نے اپنے سٹریٹیجک اہداف حاصل کر لیے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ان کامیابیوں کو سٹریٹیجک فتح میں تبدیل کیا جائے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے مطابق اینٹنی بلنکن جمعے کو لندن میں اپنے عرب ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔
امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ اینٹنی بلنکن قطر میں بات چیت کے بعد لندن کا رخ کریں گے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ برطانوی دورے میں کن وزرا سے ملاقات کریں گے۔
بلنکن نے جمعرات کو قطر پہنچنا ہے جہاں وہ غزہ میں فائربندی اور قیدیوں کی رہائی کی ڈیل پر بات کریں گے۔
چھ اکتوبر کو، اسرائیل نے شمالی غزہ میں پھر سے حملہ کیا، جس میں جبالیہ کے نواحی علاقے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو وہاں دوبارہ جمع ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے نے جمعے کی رات کہا کہ وہ ’شمالی غزہ میں شہریوں کو درپیش بڑھتی ہوئی سنگین اور خطرناک صورت حال کے بارے میں مسلسل خبردار کر رہا ہے۔‘
دوسری طرف حماس سے غزہ میں لڑنے کے ساتھ اسرائیل نے ستمبر میں لبنان میں سرگرم حزب اللہ پر بھی حملے شروع کر رکھے ہیں۔
سات اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں وزارت صحت کے مطابق کم از کم 43 ہزار افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار 206 ہے۔