سازشی نظریات اور خطرات: امریکی انتخابات کی نئی حقیقت

ایک سروے سے پتا چلتا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ امریکی انتخابی نظام کی شفافیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

لوگ 29 اکتوبر، 2024 کو ڈیٹرائٹ، مشی گن میں 2024 کے عام انتخابات کے لیے اپنا ابتدائی ذاتی ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

سینڈی ایلگن کو ان کے ہمسائے دو دہائیوں سے انتخابات کی نگرانی کے لیے قابلِ اعتماد سمجھتے تھے لیکن اب وہی پڑوسی سمجھتے ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارت سے محروم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔

اس سے قطع نظر کہ 2020 میں رپبلکن پارٹی نے اس ایسمرالڈا کاؤنٹی میں ڈالے گئے 82 فیصد ووٹ حاصل کیے، جس کی آبادی 700 یا اس سے زیادہ ہے۔ یہ امریکہ میں سب سے کم آبادی والی کاؤنٹی ہے۔

ایلگن کو کاؤنٹی کلرک کے طور پر واپس بلانے کی کوششوں کی حمایت کرنے والی ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر میری جین ذکاس نے کہا، ’مجھے 2020 کے انتخابات کے نتائج پر اعتماد نہیں۔‘

ذکاس نے، قدامت پسندوں میں اکثر دہرائے جانے والے نظریے کی تائید کرتے ہوئے، کہا کہ مسئلہ کاغذی بیلٹ کی بجائے ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا ہے۔ ’جیسا کہ مائیک لنڈل نے نشاندہی کی ہے، دھاندلی کے بہت سے طریقے ہیں۔‘

انہوں نے اس شخص کا حوالہ دیا جن کے انتخابی شفافیت کے متعلق اعتراضات ان تکیوں کے اشتہارات کے ساتھ لگائے جاتے ہیں جنہیں وہ فروخت کرتے ہیں۔

ذکاس نے کہا، ریاضیاتی فارمولے ہیں جو آپ کے ووٹ تبدیل کرسکتے ہیں۔ ایسی چیزیں ہیں جو اسے پلٹ سکتی ہیں۔‘

ایلگن تقریباً تمام 600 رجسٹرڈ ووٹرز کو ان کی شکل سے جانتی ہیں، جو ایزمرالڈا میں ہیں، جو ایک صحرا کا علاقہ ہے جہاں سونے کے کان کن -- جن میں مصنف مارک ٹوائن بھی شامل ہیں -- کبھی اپنی قسمت آزمانے کے لیے آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جس طرح سے انتخابات کروائے جاتے تھے اس سے برادری ہمیشہ خوش نظر آتی تھی، لیکن جب ٹرمپ نے 2020 میں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست قبول کرنے سے انکار کیا تو حالات خراب ہو گئے۔

انہوں نے گولڈ فیلڈ میں اپنے دفتر میں اے ایف پی کو بتایا، ’کچھ لوگ اس بارے میں بہت پُرجوش ہیں، اور میں انہیں اپنے ملک کے بارے میں پُرجوش ہونے پر الزام نہیں دے سکتی۔

’ہو سکتا ہے کہ میں ان کی کچھ باتوں سے متفق نہ ہوں جو وہ کرتے ہیں، کہتے ہیں یا نہیں کہتے، لیکن میں سمجھتی ہوں۔‘

’ہے انتخابات کو نقصان پہنچ رہا‘

سروے سے پتا چلتا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ امریکی انتخابی نظام کی شفافیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ایشو ون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی کلیئر ووڈال کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے سے عدم اعتماد کا رحجان موجود ہے۔

لیکن ٹرمپ کے2020 میں ہار ماننے سے انکار نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ انہوں نے کہا ’ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے انتخابات کے انتظام یا اس کے طریقہ کار کے بارے میں سوالات کرنا شروع کر دیے، خاص طور پر انتخابات کی انتظامیہ کے متعلق۔‘

 انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر پیدا ہونے والے شور شرابے کے علاوہ اس کا چھوٹے چھوٹے برادریوں جیسے کہ گولڈفیلڈ میں اثر انداز ہونا ایک خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے، جہاں دھمکیاں، ہراسانی اور حملوں کے باعث بہت سے انتخابی عملے کو ان کے عہدوں سے ہٹانا پڑ سکتا ہے۔

 ایشو ون کی ایک رپورٹ کے مطابق مقامی انتخابی عملے میں ہونے والی تبدیلی خاص طور پر ان ریاستوں میں زیادہ شدید رہی ہے جہاں صدارتی انتخابات میں فرق بہت کم تھا، جیسے ایری زونا، جہاں بائیڈن نے 2020 میں 0.3 فیصد پوائنٹس سے کامیابی حاصل کی، اور نیواڈا، جہاں یہ فرق 2.4 فیصد پوائنٹس تھا۔

نیواڈا کے مغرب میں 50 ہزار افراد پر مشتمل ڈگلس کاؤنٹی میں انتخابات کی نگرانی کرنے والی ایمی برگنز نے معاملے کی وضاحت کے لیے ایک مثال پیش کی۔

انہوں نے کہا، ’میں اس عہدے پر صرف چار سال رہی ہوں، اور پھر بھی میں ریاست کے سب سے سینیئر کلرکوں میں سے ایک ہوں۔‘ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والی برگنز کو یہ بات مایوس کن لگتی ہے کہ انتخابی شفافیت کے بارے میں زیادہ تر غلط معلومات ان کی اپنی پارٹی کی جانب سے آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور سازشیں ایمان دار افسروں کو باہر نکال رہی ہیں۔

’ہم ان کلرکوں کی ادارہ جاتی معلومات کھو رہے ہیں جو برسوں سے یہ کام کر رہے ہیں۔ اس سے انتخابات کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد نہیں مل رہی۔ اس سے انتخابات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انتخابی عملے کے لیے خطرات

اے ایف پی نے نیواڈا میں سابق انتخابی عملے کے کئی ارکان سے رابطہ کیا جنہوں نے ریکارڈ پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے خاندان کو دوبارہ خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غیر جانبدارانہ انتخابات اور ووٹنگ انفارمیشن سینٹر کے ایک سروے کے مطابق 2020 سے 2022 کے درمیان ایک چوتھائی انتخابی عملے کو بدسلوکی یا دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

برگن ان میں سے ایک تھیں۔ انہیں 2022 میں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں۔

نیشنل ایسوسی ایشن آف الیکشن آفیشلز کی ٹیمی پیٹرک نے کہا کہ ’بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے بلٹ پروف جیکٹس، نگرانی والے کیمرے اور یہاں تک کہ ووٹنگ مراکز کے قریب عمارتوں کے اوپر تعینات سنائپرز جیسے حفاظتی اقدامات کو اپنایا گیا ہے۔‘

لاس اینجلس میں انتخابی دفاتر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ سراغ رساں کتے ڈاک کے ذریعے آنے والے بیلٹ پیپرز کا معائنہ کر سکیں۔

ٹیمی پیٹرک نے کہا، ’ملک بھر میں مختلف حصوں میں... انہیں ڈاک میں مختلف مادے موصول ہوئے۔ ان میں سے کچھ فینٹانائل تھے... ان میں سے ایک میتھامفیٹامائن تھا۔‘

برگنز کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم اب نارکن (Narcan) ساتھ رکھتی ہیں — جو کہ اوپیئڈ زہر کا ایک تریاق ہے — تاکہ اگر انہیں کوئی مشتبہ بیلٹ ملے تو وہ اسے استعمال کر سکیں۔

ان کی کام کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اب عوام کو ووٹنگ کے عمل کی وضاحت کرنے اور انہیں یقین دلانے میں گزرتا ہے کہ یہ محفوظ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اکثر لوگ بات کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن کچھ لوگوں کو قائل کرنا آسان نہیں ہے‘

برگنز کا کہنا تھا کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں انہیں حقائق بتانے کی جتنی بھی کوشش کروں، وہ اب بھی اس غلط معلومات پر یقین کرنا چاہتے ہیں جو انہیں دی گئی ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ