ڈبلیو ایچ او اور ہیلتھ حکام نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ حماس کو نشانہ بنانے کی آڑ میں اسرائیلی فوجی حملے نے شمالی غزہ کے ایک بڑے ہسپتال کو خدمات جاری رکھنے سے محروم کر دیا ہے اور اس کے ڈائریکٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
فلسطینی علاقے کے صحت کے حکام نے کہا کہ کمال عدوان ہسپتال پر حملے نے اس عمارت کو ناکارہ کر دیا ہے جس سے غزہ کے صحت کے شدید بحران کو مزید خراب کر دیا گیا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایکس پر رات کو کہا کہ ’کمال عدوان ہسپتال پر آج صبح کے حملے نے شمالی غزہ میں صحت کی اس آخری بڑی سہولت کو بند کر دیا ہے۔ ابتدائی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ چھاپے کے دوران کچھ اہم شعبے شدید طور پر جل گئے اور تباہ ہو گئے۔ یہ اسرائیلی آپریشن جمعے کی صبح شروع ہوا تھا۔‘
ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ 60 ہیلتھ ورکرز اور 25 مریض، جن میں سے کچھ وینٹی لیٹرز پر ہیں، تشویشناک حالت میں مبینہ طور پر ہسپتال میں موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی نے کہا کہ اعتدال سے لے کر شدید حالت میں مریضوں کو تباہ شدہ، غیر فعال انڈونیشیا کے ہسپتال میں منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کی حفاظت کے لیے گہری تشویش ہے۔‘
حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر، حسام ابو صفیہ، کو طبی عملے کے کئی ارکان کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ اسرائیلی فوج نے ان گرفتاریوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جبالیہ کے رہائشی، عمار البرش، نے جہاں حالیہ ہفتوں میں فوج نے اپنے حملے پر توجہ مرکوز کی ہے، کہا کہ کمال عدوان اور اس کے ماحول پر چھاپے نے علاقے میں درجنوں مکانات کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ 50 سالہ البرش نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’صورتحال تباہ کن ہے، شمال میں کوئی طبی خدمات، ایمبولینس اور کوئی شہری دفاع نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ فوج ’کمال عدوان ہسپتال اور آس پاس کے گھروں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، اور ہمیں اسرائیلی ڈرونز اور توپ خانے سے گولہ باری کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔‘
چھاپے سے پہلے کے دنوں میں، ابو صفیہ نے ہسپتال کی نازک صورتحال کے بارے میں بارہا خبردار کیا تھا، اور الزام لگایا تھا کہ اسرائیلی افواج نے اس سہولت کو نشانہ بنایا ہے۔
پیر کو، انہوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ہسپتال کو ’اندر کے لوگوں کو مارنے اور زبردستی بے گھر کرنے کے ارادے سے‘ نشانہ بنا رہا ہے۔
جمعرات کو ابو صفیہ نے کہا کہ ہسپتال کے قریب اسرائیلی حملے میں ہسپتال کے پانچ عملے کے ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔
6 اکتوبر سے اسرائیل نے شمالی غزہ میں اپنی زمینی اور فضائی کارروائی کو تیز کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کا مقصد حماس کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا ہے۔
فوج نے جمعے کو کہا کہ وہ ہسپتال کے آس پاس کے علاقے میں حماس کے بنیادی ڈھانچے اور کارکنوں کے بارے میں انٹیلی جنس پر کارروائی کر رہی ہے۔
ہسپتال کے قریب تازہ ترین آپریشن شروع کرنے سے پہلے، فوج نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے ’شہریوں، مریضوں اور طبی عملے کے محفوظ انخلا میں سہولت فراہم کی۔‘ حماس نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے کارکن ہسپتال میں موجود تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حماس نے ایک بیان میں کہا، ’ہسپتال کے بارے میں دشمن کے جھوٹ کا مقصد آج قابض فوج کی طرف سے کیے جانے والے گھناؤنے جرم کا جواز پیش کرنا ہے، جس میں ہسپتال کے تمام شعبوں کو نکالنے اور جلانے کے منصوبے کے تحت تباہی اور جبری نقل مکانی شامل ہے۔‘
غزہ کی وزارت صحت نے قبل ازیں ابو صفیہ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا تھا کہ فوج نے ’ہسپتال کے تمام سرجری کے شعبوں کو آگ لگا دی ہے۔‘ ابو صفیہ نے کہا کہ فوج نے ’پورے طبی عملے اور بے گھر لوگوں کو بھی نکال لیا ہے نیز میڈیکل ٹیم میں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔‘
ایران نے بھی اس وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے، وزارت خارجہ کے ایک بیان کے میں اسے ’جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کی تازہ ترین مثال‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج تواتر سے حماس پر الزام عائد کرتی آئی ہے کہ وہ ہسپتالوں کو کمانڈ اور کنٹرول سینٹر کے طور پر استعمال کر رہی ہے جب کہ حماس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ’کمال عدوان ہسپتال پر یہ چھاپہ ڈبلیو ایچ او اور شراکت داروں تک رسائی پر پابندیوں میں اضافے اور اکتوبر کے اوائل سے اس سہولت پر یا اس کے قریب بار بار حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔ اس طرح کی دشمنی اور چھاپے اس سہولت کو کم سے کم فعال رکھنے کے لیے ہماری تمام کوششوں اور تعاون کو ختم کر رہے ہیں۔ غزہ میں صحت کے نظام کو منظم طریقے سے ختم کرنا صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت والے دسیوں ہزار فلسطینیوں کے لیے موت کی سزا ہے۔‘