یوکرین کی نایاب معدنیات کہاں ہیں اور ٹرمپ کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

امریکہ ایک ایسے معاہدے پر زور دے رہا تھا جس کے تحت اسے یوکرین کی اہم معدنیات، تیل، گیس اور کلیدی بنیادی ڈھانچے، جیسے کہ بندرگاہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف حصہ ایک مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے حاصل ہو۔

12 فروری 2025 کی اس تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (بائیں) جبکہ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی (اے ایف پی)

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنی سخت ترین شرائط میں سے کچھ واپس لیے جانے کے بعد یوکرین نے امریکہ کے ساتھ نایاب زیر زمین معدنیات کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے تاکہ روس کی جاری جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی حمایت حاصل کی جا سکے۔

امن مذاکرات کے ایک مرکزی نکتے کے طور پر، امریکہ ایک ایسے معاہدے پر زور دے رہا تھا جس کے تحت اسے یوکرین کی اہم معدنیات، تیل، گیس اور کلیدی بنیادی ڈھانچے، جیسے کہ بندرگاہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف حصہ ایک مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے حاصل ہو۔

اگرچہ مذاکرات ابھی تک حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے، لیکن فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی معاہدے میں ایک ایسا فنڈ قائم کیا گیا ہے جس میں یوکرین اپنی ریاستی ملکیتی معدنی وسائل، جیسا کہ تیل اور گیس، کی ’مستقبل میں مالیاتی حیثیت‘ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 50 فیصد حصہ جمع کرائے گا، جو بعد میں یوکرینی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس معاہدے میں امریکہ کی جانب سے  مستقبل میں یوکرین کی اقتصادی ترقی کی حمایت کرنے کا عزم بھی شامل ہے۔

نائب وزیر اعظم اولہا سٹیفانیشینا نے فنانشل ٹائمز کو بتایا: ’یہ معدنیات کا معاہدہ صرف تصویر کا ایک حصہ ہے۔ ہمیں امریکی انتظامیہ کی جانب سے کئی بار بتایا گیا ہے کہ یہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔‘

تاہم، اس معاہدے میں یوکرین کے لیے وہ سکیورٹی ضمانتیں شامل نہیں جن کی کیئف طویل عرصے سے خواہش کر رہا تھا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق، امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کو ترک کر دیا ہے جس میں انہوں نے یوکرینی وسائل سے 500 ارب ڈالر کی ممکنہ آمدنی کا تقاضہ کیا تھا، یہ ایک ایسی شرط ہے جسے یوکرینی صدر وولودی میر زیلینسکی نے فوری طور پر مسترد کر دیا تھا۔

اتوار کو اس بات کا اشارہ دیتے ہوئے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں، زیلینسکی نے معدنیات کے معاہدے کے بدلے یوکرین کے قدرتی وسائل میں اربوں ڈالر کے امریکی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’میں ایسے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا جس کا قرض دس نسلوں تک یوکرینی عوام کو چکانا پڑے۔‘

اس کے باوجود، حالیہ دنوں میں مذاکرات میں شدت آ گئی ہے اور یوکرین کی پارلیمنٹ کے سپیکر روسلان سٹیفانچک کے مطابق، کیئف اس معاہدے کو 24 فروری تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب روس کے حملے کو تین سال مکمل ہوں گے۔

ٹرمپ نے پیر کو اشارہ دیا کہ معاہدہ عنقریب ہو جائے گا انہوں نے کہا: ’درحقیقت، (زیلینسکی) شاید اس ہفتے یا اگلے ہفتے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آئیں، جو کہ ایک اچھی بات ہوگی۔‘

امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ جنگ زدہ ملک ان کے منصوبے پر متفق ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے کہا: ’ہم یوکرین کو بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس انتہائی قیمتی نایاب معدنیات ہیں۔‘

یوکرین میں معدنی وسائل کہاں ہیں اور کیئف کو ان کی کان کنی میں مشکلات کیوں درپیش ہیں؟

یوکرین میں اہم معدنی وسائل کی مالیت 12 کھرب پاؤنڈ سے زائد ہے۔

یوکرین کی نایاب معدنیات کیا ہیں؟

یوکرین میں یورپ کے سب سے بڑے اہم معدنی ذخائر میں سے ایک موجود ہے، جس میں لیتھیم اور ٹائٹینیم جیسے قیمتی عناصر شامل ہیں، جن میں اکثر کو ابھی کان کنی نہیں کی گئی۔

انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجی کے مطابق، یوکرین میں نایاب عناصر جیسا کہ لانتھینم اور سیریم موجود ہیں، جو ٹی وی اور لائٹنگ میں استعمال ہوتے ہیں، نیز نیوڈیمیم، جو ونڈ ٹربائنز اور برقی گاڑیوں کی بیٹریوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اربیم اور ییٹریئم جیسی معدنیات، جو جوہری توانائی اور لیزرز میں استعمال ہوتی ہیں، بھی یہاں پائی جاتی ہیں۔

یورپی یونین کی مالی اعانت سے چلنے والی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ یوکرین کے پاس اسکینڈیم کے ذخائر ہیں لیکن تفصیلی ڈیٹا کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلینسکی کئی سالوں سے ان وسائل کی بہتری کی کوشش کر رہے ہیں، جن کی مالیت فوربز یوکرین کے مطابق 12 کھرب پاؤنڈ سے زائد ہے۔ 2021 میں، انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ان معدنیات کی کان کنی کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اور سرمایہ کاری کے حقوق کی پیشکش کی تھی، لیکن 2022 میں مکمل حملے کے بعد یہ کوششیں رک گئیں۔

یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اندازہ لگایا کہ ٹرمپ جیسے تجارتی ذہن رکھنے والے رہنما اس معاملے میں دلچسپی لے سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے گذشتہ سال اپنی فتح کے منصوبے میں ان معدنیات کی کان کنی کو شامل کر لیا۔ یہ معدنیات الیکٹرک گاڑیوں، دیگر ماحول دوست توانائی کے منصوبوں اور دفاعی پیداوار کے لیے نہایت اہم ہیں۔

حکومتی دستاویزات کی بنیاد پر تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ یوکرین کے معدنی وسائل انتہائی متنوع ہیں۔ فارن پالیسی کے مطابق، ’یوکرین میں 8,700 سے زائد مقامات پر 120 میں سے 117 انتہائی استعمال ہونے والے صنعتی معدنیات کے تجارتی لحاظ سے قابل استعمال ذخائر موجود ہیں۔‘

ان ذخائر میں نصف ملین ٹن لیتھیم بھی شامل ہے، جس کی ابھی تک کان کنی شروع نہیں ہوئی، جس کی بدولت یوکرین یورپ میں سب سے بڑا لیتھیم ذخیرہ رکھنے والا ملک ہے۔

 یوکرین میں گریفائٹ کے ذخائر بھی موجود ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں اور جوہری ری ایکٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اور یہ عالمی وسائل کا 20 فیصد بنتے ہیں۔ یہ ذخائر ملک کے وسطی اور مغربی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

یہ حیران کن نہیں کہ ٹرمپ اس سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہیں، خاص طور پر جب کہ چین ٹائٹینیم جیسی معدنیات کی کان کنی میں نمایاں ہے۔

لیکن، ولادی میر پوتن کے حملے نے نہ صرف یوکرین کی معدنی وسائل کی کان کنی کے منصوبوں میں تاخیر کی بلکہ ان معدنیات سے مالا مال کئی علاقے تباہ ہو گئے یا روس کے قبضے میں چلے گئے۔

یوکرین کے چھ کھرب پاؤنڈ سے کچھ زیادہ معدنی وسائل، جو کہ ملک کے کل 53 فیصد کے لگ بھگ ہیں، ان چار خطوں میں موجود ہیں جن پر پوتن نے ستمبر 2022 میں غیر قانونی طور پر قبضہ کیا تھا، اور ان میں سے ان کی فوج کا کافی حد تک قبضہ ہے۔

اس میں لوہانسک، دونیتسک، زپوریزہیا اور کھیرسن شامل ہیں، اگرچہ خیرسون معدنیات کے لحاظ سے کم اہمیت رکھتا ہے۔

کریمیا، جسے پوتن کی افواج نے 2014 میں غیر قانونی طور پر ضم کر لیا تھا، تقریباً 165 ارب پاؤنڈ مالیت کے معدنی وسائل رکھتا ہے۔

دنیپروپیٹرووسک کا علاقہ، جو دونیتسک اور زاپوریژیا کے زیر قبضہ علاقوں سے متصل ہے اور ایک پیش قدمی کرتی روسی فوج کے سامنے ہے، مزید 2.8 کھرب پاؤنڈ مالیت کے معدنی وسائل رکھتا ہے۔

بڑی فوجی کارروائیوں کے ساتھ روسی مشکلات اس خطے کو اپنے قبضے میں لینے کی سنجیدہ کوشش کو روک سکتی ہیں لیکن ماسکو کے فوجیوں کے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے علاقے میں کان کنی کی کارروائیاں خطرناک ہوں گی۔

دیگر معدنی ذخائر بھی روسی افواج کے قریب واقع ہیں۔ دونیتسک کے علاقے میں شیوشینکو نامی بستی کے باہر ایک لیتھیم کا ذخیرہ ویلیکا نووسلکا کے قصبے سے محض 10 میل دور ہے، جسے حال ہی میں پوتن کی افواج نے قبضے میں لے لیا ہے۔

اگرچہ یوکرین کے پاس ایک ماہر اور نسبتاً سستی افرادی قوت اور ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچہ موجود ہے، سرمایہ کار متعدد رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں غیر موثر اور پیچیدہ ضوابط، جیولوجیکل ڈیٹا تک رسائی میں مشکلات، اور زمین کے پلاٹ حاصل کرنے میں دشواریاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے منصوبوں کی ترقی میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور ان کے لیے ابتدائی طور پر بھاری سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

آگے کیا ہوگا؟

رؤئٹرز کے مطابق، یوکرینی صدر زیلنسکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے جمعے کو واشنگٹن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ممکنہ طور پر ایک معاہدے پر دستخط کریں گے جس میں مبینہ طور پر یوکرینی معدنیات پر اتفاق کیا گیا ہے۔

یوکرینی کاروباری حکام کے مطابق، امریکی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ لیکن باضابطہ معاہدہ کرنے کے لیے ممکنہ طور پر قانون سازی، ارضیاتی سروے اور مخصوص شرائط پر گفت و شنید درکار ہوگی۔

یہ واضح نہیں ہے کہ جنگ بندی کی صورت میں بھی کمپنیوں کو یوکرین میں کام کرنے کا خطرہ مول لینے کے لیے کس قسم کی حفاظتی ضمانتیں درکار ہوں گی۔ اور کوئی بھی یقینی طور پر نہیں جانتا ہے کہ یوکرین اور امریکی کمپنیوں کے درمیان مالیاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے معاملات کو کن اصولوں یا شرائط کے تحت یقینی بنایا جائے گا۔

 کس قسم کے مالیاتی معاہدے یوکرین اور امریکی کمپنیوں کے درمیان معاہدوں کو تقویت بخشیں گے۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا