تفتان کے مصروف چوک ڈبل روڈ پر ان دنوں مکمل سناٹا ہے یہاں پر دو ہزار سے زائد دکانیں صرف اس لیے بند ہیں کہ ایران کی جانب سے سامان کی رسد کا سلسلہ مکمل رک گیا ہے۔
یہ صورتحال چھوٹے تاجروں کے لیے انتہائی نقصان کا باعث ہے۔ عبدالقادر بھی انہی تاجروں میں سے ایک ہیں جن کی دکان گذشتہ ایک ماہ سے بند ہے۔
عبدالقادر نے ’انڈپینڈنٹ اردو‘ کو بتایا کہ وہ 25 سال سے تفتان میں کریانا کی دکان چلا رہے ہیں مگر اس پورے عرصے میں کاروبار پر اتنے برے حالات نہیں دیکھے۔
ان کے بقول تمام دکانیں بند ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، ٹرانسپورٹ بند ہے یہاں تک کہ شہر میں ایک خوف کا عالم ہے۔
تفتان بلوچستان کے ضلع چاغی کی ایک تحصیل ہے جو پاکستان و ایران سرحد سے متصل چھوٹا سا علاقہ ہے جس کی آبادی 15 ہزار کے لگ بھگ ہے۔
بظاہر تو تفتان پاکستان کی حدود میں ہے اور اس کا حصہ ہے مگر یہاں بسنے والے لوگوں کا مکمل دار و مدار ایران پر ہے۔
عبدالقادر اور ان جیسے دوسرے دکانداروں کے جنرل سٹورز میں سو فیصد اشیا ایران سے لائی جاتی ہیں۔ اس سامان میں گھی، دال، چاول سے لے کر دہی تک سب کچھ ’میڈ ان ایران‘ ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان سے چھ ہزار کے قریب زائرین ایران مقدس مقامات کی زیارت کے لیے گئے تھے جہاں ایران کے شہر قم میں کرونا کی وبا پھیلی اور پاکستان سے جانے والے زائرین بھی اس کا شکار ہوئے۔
عبدالقادر کے مطابق، دکانیں بند ہونےکی دو وجوہات ہیں ایک تو جب ایران سے کرونا سے متاثرہ زائرین تفتان پہنچے تو لوگوں میں خوف پھیل گیا اور حکومت نے بھی دکانیں اور شہر کو بند کردیا۔
واضح رہے کہ ایران سے کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد پاکستان نے ایران سے متصل سرحد کو تفتان کے مقام پر بند کر دیا اور سرحد پر قرنطینہ سینٹر قائم کر دیا جہاں زائرین اور دیگر لوگوں کو 14 روز کے لیے رکھا گیا۔
دوسری جانب ایران سے اشیا خورد ونوش سمیت دیگر سامان کی رسد کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہے اور دکانوں میں موجود سامان بھی ختم ہونے کو ہے۔
تفتان ایندھن کے معاملے میں بھی ایران پر انحصار کرتا ہے۔ ایران سے آنے والے ایل پی جی گیس سے لوگ سلنڈر بھرتے ہیں اور کھانا بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر اب ایران سے ایل پی جی گیس نہیں آ رہی جو گھریلو صارفین کے لیے مشکل کا باعث ہے۔
تفتان میں قرنطینہ سینٹر کے قیام کے لیے حکومت کی مدد کرنے والے صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق یہاں پر پاکستان ہاؤس میں ڈھائی ہزار لوگوں کے قیام کے لیے قرنطینہ سینٹر بنایا گیا۔
تاہم تفتان میں استمعال ہونے والی بجلی بلا تعطل ایران سے آ رہی ہے جو سرحد کی بندش کے باوجود بند نہیں ہوئی۔
دکانیں بند ہونے کی وجہ سے عبدالقادر دن بھر گھر پر رہتے ہیں اور اس سے ان کے روز مرہ کے معاملات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم انہیں امید ہے کہ ایران سے آنے والے زائرین کی آمد اور قرنطینہ سینٹرز کے خاتمے کے بعد تفتان کے بازاروں کی رونقیں ایک بار پھر بحال ہوجائیں گی۔