پاکستانی کرکٹ ٹیم کا امپورٹڈ کوچنگ سٹاف

مکی آرتھر کے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آنے کا معاملہ پچھلے کئی ماہ سے شہ سرخیوں میں رہا ہے۔ جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں پاکستانی ٹیم میں لانے کی نوید سنائی تھی اس وقت سے یہ سوال ہر ایک کی زبان پررہا ہےکہ مکی آرتھر کس طرح بیک وقت دو ذمہ داریاں نبھا سکیں گے۔

مکی آرتھر تین دسمبر 2021 کو گال انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کرکٹ میچ کے دوران (اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے چار اپریل کو کی گئی ایک ٹویٹ میں سٹار کھلاڑی بابر اعظم کو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں قیادت سونپے جانے کی بات کی تھی۔

نجم سیٹھی نے لکھا تھا: ’بابر اعظم آج مجھ سے ملنے آئے۔ میں نے بابر کو بتادیا کہ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کریں گے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سکواڈز کا اعلان کر دیا۔ اس طرح وہ تمام لوگ جو بے بنیاد خبریں پھیلا رہے تھے آج اپنے کام سے فارغ ہوگئے۔‘

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا بابر اعظم کو یہ یقین دلانا ضروری ہو گیا ہے کہ وہ کپتان ہیں؟

اس ٹویٹ کی ضرورت اس لیے بھی نہیں تھی کہ وہ افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم کے اعلان کے موقعے پر یہ بات واضح کرچکے تھے کہ بابر اعظم اس وقت تک کپتان رہیں گے جب تک وہ خود منع نہیں کر دیتے۔

یہ ورلڈ کپ کا سال ہے لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ واضح طور پر یہ اعلان کردے کہ بابر اعظم کم از کم ورلڈ کپ تک تو پاکستانی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

نجم سیٹھی صاحب یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ بابراعظم کی کپتانی کے بارے میں جو قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں وہ کرکٹ بورڈ نہیں پھیلا رہا، لیکن یہ بات بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ صرف میڈیا کی اختراع نہیں ہے بلکہ ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جاتی رہی ہیں۔

 ہم ماضی میں یہ دیکھ چکے ہیں کہ بنے بنائے کپتانوں کا اعتماد متزلزل کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ 2015 کے ورلڈ کپ سے قبل مصباح الحق کے کپتان ہوتے ہوئے شاہد آفریدی نے کپتان بننے کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین شہریار خان کو یہ بیان دینا پڑا تھا کہ مصباح الحق ہی ٹیم کے کپتان ہیں۔

اس سے بھی پیچھے جائیں تو 2003 کے عالمی کپ کے موقع پر اس وقت بورڈ کے چیئرمین توقیر ضیا وقار یونس کو ہٹا کر وسیم اکرم کو کپتان بنانے کے شدت سے خواہش مند تھے لیکن جسٹس قیوم رپورٹ میں موجود وسیم اکرم کو کپتانی نہ دینے کا اہم نکتہ آڑے آ گیا۔

مکی آرتھر سے انتظار نہیں ہو پایا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بابر اعظم کی کپتانی کی نوید سنانے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والی ہوم سیریز کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ادھورے کوچنگ سٹاف کا اعلان بھی کر دیا۔ ادھورا اس طرح کہ ابھی مکی آرتھر اور مورنی مورکل کی تقرری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔  

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی ویب سائٹ پر کوچنگ سٹاف کی اسامیوں کے لیے اشتہار جاری کر رکھا ہے جس میں  ہیڈ کوچ سے اوپر ایک اسامی ڈائریکٹر پاکستان کرکٹ ٹیم بھی رکھی گئی ہے۔  ظاہر ہے کہ یہ پوسٹ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ مکی آرتھر کے لیے رکھی گئی ہے۔

عام طور پر ہم نے یہی دیکھا ہے کہ کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ میں اس طرح کے اشتہارات محض رسمی کارروائی ہوا کرتے ہیں کیونکہ معاملات پہلے سے ہی طے پا چکے ہوتے ہیں اور جسے کوئی عہدہ دینا ہوتا ہے، وہ درون خانہ دے دیا جا چکا ہوتا ہے اور اشتہارات صرف دکھاوا اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔

یہاں مجھ سمیت ہر کسی کے لیے دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مکی آرتھر کی تقرری کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن مکی آرتھر اتنے ’ایکسائٹڈ‘ ہیں کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے اعلان کا انتظار کیے بغیر ہی خود بی بی سی ٹیسٹ میچ سپیشل سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کردی کہ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ  بطور کنسلٹنٹ نئی ذمہ داری سنبھالنے والے ہیں۔

مکی آرتھر کے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آنے کا معاملہ پچھلے کئی ماہ سے شہ سرخیوں میں رہا ہے۔ جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں پاکستانی ٹیم میں لانے کی نوید سنائی تھی اس وقت سے یہ سوال ہر ایک کی زبان پر رہا ہے کہ مکی آرتھر کس طرح بیک وقت دو ذمہ داریاں نبھا سکیں گے؟

کیونکہ مکی آرتھر دو کشتیوں میں سوار رہنا چاہتے ہیں۔ وہ اس وقت ڈربی شائر کے ہیڈ کوچ ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ  وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھی وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔

مکی آرتھر 2016 سے 2019 تک پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں۔ ان کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے سرفراز احمد کی کپتانی میں چیمپیئنز ٹرافی جیتی تھی۔

جہاں تک مجموعی ریکارڈ کی بات ہے تو بحیثیت کوچ انہوں نے 10 ٹیسٹ جیتے، 17 ہارے۔ 32 ون ڈے جیتے، 34 ہارے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں 30 جیتے اور سات ہارے۔

اس طرح ٹیسٹ میچوں میں ان کا ریکارڈ کمزور نظر آتا ہے۔

ورک فرام ہوم کوچنگ کی اصطلاح  بھی پہلی بار کرکٹ میں مکی آرتھر کی وجہ سے سننے میں آئی ہے کیونکہ مکی آرتھر مکمل طور پر پاکستانی ٹیم کے ساتھ نہیں رہیں گے بلکہ انہی کی تجویز کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ ایک ہیڈ کوچ بھی مقرر کرے گا۔

یہاں سب سے اہم سوال پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی سے بنتا ہے جنہوں نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیا تھا کہ مکی آرتھر کو یہ ذمہ داری سونپے جانے کے بارے میں ان کے ذہن میں کئی سوالات تھے جو انہوں نے مکی آرتھر سے کیے تھے کہ وہ پاکستانی ٹیم سے دور رہ کر یہ ذمہ داری کس طرح نبھا پائیں گے؟

کیا مکی آرتھر نے ان کے ذہن میں موجود سوالات کے جوابات دے کر انہیں مطمئن کردیا ہے یا نہیں؟

نجم سیٹھی کے بقول مکی آرتھر انہیں یہی جواب دیتے رہے کہ میں یہ سب کچھ کرلوں گا لیکن ان کے ذہن میں سوالات بہرحال موجود رہے۔

نجم سیٹھی کو یقیناً اپنے سوالات کے جواب مل گئے ہوں گے، اس کے بعد ہی وہ مکی آرتھر کو یہ ذمہ داری سونپ رہے ہیں لیکن کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا؟ کیونکہ مکی آرتھر بیک وقت پاکستان کرکٹ بورڈ اور ڈربی شائر کی ملازمت کرتے ہوئے دو تنخواہیں وصول کریں گے۔

ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے ایک اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ پالیسی بنا دی تھی کہ بورڈ کا کوئی ملازم دو عہدے رکھتے ہوئے دو مراعات حاصل نہیں کرسکتا۔

امپورٹڈ کوچنگ سٹاف میں کون شامل؟

پاکستان کرکٹ بورڈ جو امپورٹڈ کوچنگ سٹاف درآمد کر رہا ہے اس میں مکی آرتھر ڈائریکٹر کرکٹ ٹیم ہوں گے، گرانٹ بریڈ برن ہیڈ کوچ، مورنی مورکل بولنگ کوچ، اینڈریو پیوٹک بیٹنگ کوچ جبکہ کلف ڈیکون فزیو اور ڈریکس سائمن سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے بعد اگرچہ نیا کوچنگ سٹاف سامنے آئے گا لیکن یہ ان ناموں سے مختلف نہیں ہو گا۔

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے گرانٹ بریڈ برن کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم نئی نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ اس سے قبل 2018 سے 2021 تک پاکستانی ٹیم کے فیلڈنگ کوچ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں کوچنگ ہیڈ رہ چکے ہیں لیکن حیران کن طور پر اب وہ ہیڈ کوچ بنائے گئے ہیں جبکہ ان کے پاس انٹرنیشنل کوچنگ کا واحد بڑا تجربہ یہ ہے کہ وہ سکاٹ لینڈ کی ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے۔

اینڈریو پیوٹک کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اور وہ جنوبی افریقہ کی اے ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جنوبی افریقہ کی خواتین ٹیم کے بیٹنگ کوچ بھی رہے ہیں۔

مورنی مورکل جنوبی افریقہ کے تجربہ کار فاسٹ بولر تھے جن کے کریڈٹ پر ٹیسٹ کرکٹ میں 309 وکٹیں موجود ہیں۔ اس وقت وہ آئی پی ایل کھیلنے والی لکھنؤ سپر جائنٹس کے بولنگ کوچ ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری ایسی کیا افتاد آن پڑی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایسے کوچز کے پیچھے بھاگ رہا ہے یا مکی آرتھر کے دیے گئے ناموں پر سر جھکا کر ہاں کر رہا ہے؟  

کیا دنیا میں کوچز کا قحط پڑ گیا ہے یا پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کو بڑے نام نہیں مل رہے ہیں کیونکہ ان کے معاوضے بھی بڑے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر