پنجاب کے سرکاری ملازمین نے وفاق اور دیگر تینوں صوبوں کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کے برابر اضافہ نہ کیے جانے پر دس جولائی سے قلم چھوڑ ہڑتال کر رکھی ہے۔
صوبائی محکموں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے لاہور میں سول سیکرٹریٹ کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔
دھرنے میں سینکڑوں کی تعداد میں مرد اور خواتین ملازمین موجود ہیں۔
صوبے کے دور دراز شہروں سے آئے شرکا شدید گرمی کے باوجود اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔
سرکاری ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں کے مطابق جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کی درخواست پر عمل نہ کیا تو دفاتر کی تالا بندی کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے بقول مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے لیکن تنخواہوں اور پینشن میں دوسرے صوبوں اور وفاق کے مطابق بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب صوبہ بھر میں سرکاری دفاتر میں ہڑتال کے باعث سرکاری امور تعطل کا شکار ہیں جس سے عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ملازمین کے مطالبات
سرکاری ملازمین کے کوارڈینیٹر رائے عارف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وفاق میں ایک سے 16 سکیل تک ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا جب کہ پنجاب میں بنیادی تنخواہ پر اضافے سے صرف پانچ فیصد اضافہ کیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح پینشن میں وفاق مین 17.5 فیصد اضافہ کیا گیا لیکن پنجاب میں نہیں ہوا۔‘
’اس کے علاوہ لیو انکیشمنٹ میں ترمیم کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے تمام کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو جوائننگ کی تاریخ سے مستقل کیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہم سرکاری دفاتر کی تالا بندی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔‘
رائے عارف کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں اضافے کی شرح کئی سو تک بڑھ چکی ہے لیکن موجودہ تنخواہوں میں گزارہ مشکل ہو گیا ہے۔
پنجاب بھر کے مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہے اور شدید گرمی کے باعث ہاتھ والے پنکھوں کا استعمال اور پانی کی سبلیوں سے پانی پی کراپنی مدد آپ کے تحت گزارہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کے نمائندوں سے حکومتی ٹیم کے مزاکرات جاری ہیں لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔