پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار بھی فائنل ہو چکے ہیں، جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب بڑے صوبے پنجاب میں قومی اسمبلی کے 141 حلقوں پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار مد مقابل ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت کئی مرکزی رہنماؤں کو کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں مل سکی۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف، شہباز شریف سمیت ان کے تمام ہیوی ویٹ امیدوار مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ن لیگ کے بیشتر امیدوار جماعت کے اہم رہنما ہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے علاوہ بھی پنجاب میں پی پی پی کے اہم رہنما انتخابی میدان میں ہیں۔
اسی طرح استحکام پاکستان پارٹی نے بھی ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ بعض سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر دیے ہیں۔
پنجاب میں کانٹے کے مقابلے
ویسے تو پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی پنجاب بھر میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن لاہور سے قومی اسمبلی کے 14 حلقوں میں کامیابی کے لیے سب سے زیادہ زور آزمائی کی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف این اے 130 سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کی امیدوار یاسمین راشد جبکہ تحریک لبیک کے محمد خرم ریاض، جماعت اسلامی کے خلیق احمد بٹ اور متعدد آزاد امیدوار بھی ہیں۔
اس حلقے میں 2013 اور 2018 کے انتخاب میں ن لیگ نے فتح حاصل کی تھی۔ اب یاسمین راشد نو مئی واقعات کے کیس میں بند ہیں۔ اس لیے نواز شریف کی پوزیشن بہتر سمجھی جارہی ہے۔
این اے 117 لاہور میں ن لیگ اور آئی پی پی کے متفقہ امیدوار عبدالعیلم خان ہیں۔
ان کے مد ماقابل پی ٹی آئی کے نئے امیدوار اعجاز بٹر، جماعت اسلامی کے جہانگیر احمد جبکہ ٹی ایل پی کے سیف الرحمٰن الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس حلقے سے پہلے ن لیگ کامیاب ہوئی تھی اس لیے یہاں علیم خان مضبوط امیدوار سمجھے جارہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بار لاہور کے حلقہ 127 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حلقے سے ن لیگ کے امیدوار عطا تارڑ اور تحریک انصاف کے ظہیر عباس کھوکھر ہیں۔ اس حلقے سے بھی ن لیگ 2013 اور 2018 میں جیت چکی ہے لیکن بڑے امیدوار آنے سے یہاں کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔
اسی طرح لاہور کے حلقہ این اے 128 میں ن لیگ اور استحکام پاکستان کے متفقہ امیدوار عون چوہدری ہیں جبکہ تحریک انصاف کے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ مقابلے میں ہیں۔
یہ نشست 2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے شفقت محمود نے جیتی تھی۔ اس بار انہیں ٹکٹ جاری نہیں ہوسکا۔ اس حلقے میں بھی سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔
راولپنڈی کے حلقہ 55 سے پی ٹی آئی نے راجہ بشارت کو ٹکٹ جاری کیا ہے، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید اور مسلم لیگ ن کے ملک ابرار احمد میں مقابلہ ہوگا۔ اس حلقہ سے شیخ رشید کامیاب ہو چکے ہیں لہذا یہاں بھی سکت مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے۔
ملتان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 148 میں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی، ن لیگ کے احمد حسین ڈھیڑ پی ٹی آئی کے بیرسٹر تیمور ملک میں مقابلہ ہوگا۔ اس حلقے سے یوسف رضا گیلانی اور سکندر حیات بوسن جیتتے رہے مگر 2013 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر احمد حسین ڈھیڑ نے یہ نشست جیتی تھی۔
سکندر بوسن بھی احمد حسین ڈھیڑ کا ساتھ دے رہے ہیں اس لیے اس حلقے میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
ملتان کے حلقہ این اے 149 میں بھی اس بار دلچسپ مقابلہ دیکھا جارہا ہے یہاں سے 2018 میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر منتخب ایم این اے ملک عامر ڈوگر دوبارہ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔
اس حلقے سے ن لیگ اور استحکام پاکستان کے متفقہ امیدوار جہانگیر ترین پہلی بار لڑ رہے ہیں۔ سینیئر سیاست دان جاوید ہاشمی آزاد امیدوار کے طور پر یہاں سے حصہ لے رہے ہیں۔ اس لیے یہاں بھی سخت مقابلے کی توقع ہے۔
اسی طرح وہاڑی کے حلقہ 156 میں پی ٹی آئی نے عائشہ نذیر جٹ کو ٹکٹ دیا ہے ان کے مد مقابل ن لیگ کے چوہدری نذیر احمد ہوں گے اس حلقے میں بھی دونوں امیدواروں کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق سخت مقابلے کا بتایا جارہا ہے۔
ڈیرہ غازی خان کے حلقہ 185 میں پی ٹی آئی کا اسی حلقے سے کامیاب ہونے والی ایم این اے زرتاج گل جبکہ پیپلز پارٹی کے سردار دوست محمد کھوسہ، ٹی ایل پی کے زکا اللہ، جماعت اسلامی کے عثمان فاروق میدان میں ہیں اس حلقے سے ابھی ن لیگ کا کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔
اس حلقے میں زرتاج گل کی پوزیشن بہتر دکھائی دے رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے چیئرمین سمیت مرکزی رہنماؤں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ ملنے اور پیپلز پارٹی کو زیادہ پذیرائی نہ ہونے کے باعث زیادہ تر نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدوار زیادہ مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ پنجاب میں ن لیگ ویسے بھی ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے لہذا اب ان کے لیے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں جیت کے زیادہ آثار ہیں۔‘
پنجاب میں انتخابی منظر نامہ
تجزیہ کار سلیم بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب میں قومی اسمبلی کی بیشتر نشتوں پر ابھی بھی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ بعض سیٹوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن موجودہ صورت حال میں جب پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بھی نہیں ان کے سربراہ سمیت بیشتر اہم رہنما یا گرفتار ہیں یا روپوش ہیں انتخابی مہم چلانے کی بھی کھلی چھٹی نہیں۔ ان حالات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کا آسانی سے جیتنا مشکل ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر پی ٹی آئی کے کچھ امیدوار کامیاب ہوں گے بھی تو ان کی حیثیت بھی آزاد ہوگی وہ جس مرضی پارٹی کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ نشان نہ ملنے کے باعث پارٹی قیادت کے قانونی طور پر پابند نہیں۔‘
سلیم بخاری کے بقول، ’تحریک انصاف کے پنجاب سے مضبوط امیدوار ویسے ہی الیکشن سے باہر ہیں لہذا نئے امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں۔ جن میں سے بیشتر وکیل ہیں اور وکلا کا ووٹرز سے اس طرح رابطہ نہیں ہوتا جس طرح سیاست دانوں کا ہوتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ان کے پاس بلے کا نشان بھی نہیں جس سے انہیں پوری طرح پارٹی ووٹ مل سکتا۔ لہذا پی ٹی آئی اس بار نہ صرف پنجاب بلکہ ملک بھر میں مشکلات سے دوچار ہے ان کے لیے جیتنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔‘
حسن عسکری نے کہا کہ ’پنجاب میں مسلم لیگ ن کو ہمیشہ سے حمایت حاصل رہی ہے۔ لیکن تحریک انصاف نے یہاں جو کامیابی حاصل کی تھی وہ ن لیگ کا راستہ روکنے کی حکمت عملی کے تحت ملی تھی۔ اس بار وہی مشکلات تحریک انصاف کے سامنے ہیں انہیں ماضی میں جو عوامی حمایت حاصل ہوئی بھی تھی اسے برقرار رکھنا بھی دشوار لگتا ہے۔
’بیشتر حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدوار ن لیگ کے مقابلے میں کافی کمزور نظر آرہے ہیں اگر اپنی ساکھ کی بنیاد پر ان کے امیدوار جیتیں گے بھی تو وہ بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔‘
حسن عسکری کے بقول، ’پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما نو مئی واقعات کیسوں کی وجہ سے سامنے نہیں آسکے کئی استحکام پاکستان پارٹی میں چلے گئے۔ جن کو ٹکٹیں جاری کی گئی ہیں وہ حلقوں میں اتنے معروف نہیں کہ لوگ ان پر اعتماد کر سکیں۔ پیپلز پارٹی چاہے لاہور میں بلاول کو جتوانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے لیکن لاہور سمیت پنجاب میں ابھی انہیں وہ حمایت حاصل نہیں جو کسی زمانے میں ہوتی تھی۔‘
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار رضی الدین رضی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جنوبی پنجاب میں کئی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی مضبوط ہیں مگر زیادہ سیٹوں پر ابھی بھی ن لیگ اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں مقابلہ ہے۔ البتہ جس طرح 2013 اور 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو اس خطے سے نشستیں ملی تھیں اس طرح کامیابی ممکن نہیں رہی۔‘
ان کے بقول: ’اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ متحدہ جنوبی پنجاب دھڑا جو پی ٹی آئی کے ساتھ تھا وہ بھی اب حمایت نہیں کر رہا۔ دوسرا یہ کہ اس خطے میں پی ٹی آئی کا چہرہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین سمجھے جاتے تھے۔ ایک جیل میں ہیں دوسرے پارٹی چھوڑ چکے ہیں اب عامر ڈوگر اور زرتاج گل ہیں جو ساتھ کھڑے ہیں اور الیکشن بھی لڑ رہے ہیں۔‘
رضی کے بقول، ’یہاں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن ان کے اتحادی استکام پاکستان اور پی ٹی آئی کے امیدوار کئی نشستوں پر کامیابی کی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔ لہذا جنوبی پنجاب میں تینوں بڑی جماعتوں اور کچھ آزاد امیدواروں کی کامیابی کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔‘
حسن عسکری کے بقول، ’جس طرح سے پہلے انتخابات میں جیتنے والی جماعتوں کا اندازہ ہو جاتا ہے اس بار بھی دکھائی دے رہا ہے کہ ن لیگ کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں پنجاب سے الیکشن جیتنے کی مکمل آزادی ہے۔ اب بھی پری پول ریگنگ سے ہی کافی حد تک ان کے لیے کامیابی کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔‘
پی ٹی آئی بانی اور چیئرمین عمران خان، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، فواد چوہدری، مراد سعید، مونس الہی، پرویز الہی، شوکت بسرا، اعجاز چوہدری، صنم جاوید، اعظم سواتی، نعیم وڑائچ، سردار حسنین بہادر دریشک، سردار علی رضا دریشک، غلام محی الدین کھوسہ، عبداللہ وینس، ملک مظفراوراصغر جوئیہ کو تاحال الیکشن لڑنے کی اجازت نہ مل سکی ہے۔
مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔