آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان کی فنڈنگ میں بہتری: موڈیز

عالمی ریٹنگ ایجنسی کے مطابق: ’زیادہ ٹیکسوں اور مستقبل میں توانائی کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے روز مرہ زندگی کے اخراجات میں اضافے کے باعث سماجی تناؤ بڑھ سکتا ہے اور اس سے اصلاحات کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔‘

یکم جولائی 2024 کو ملتان میں ایک احتجاج کے دوران شہریوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں، جن پر بجلی کے نرخوں میں کمی اور ٹیکسوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے (شاہد سعید مرزا / اے ایف پی)

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستانی حکومت کے حالیہ معاہدے کے نتیجے میں دیگر دوطرفہ اور کثیر الجہتی شراکت داروں کو پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی، تاہم سخت شرائط کے باعث مہنگائی میں اضافے سے معاشرے میں تناؤ میں اضافہ ہوگا۔

گذشتہ ہفتے کے آخر میں عالمی مالیاتی فنڈ اور پاکستان کے درمیان 37 ماہ کی مدت کے لیے سات ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا سٹاف لیول معاہدہ طے پایا ہے۔

اس حوالے سے آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ اس نئے پروگرام کو فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی توثیق درکار ہے، جو پاکستان کے ’میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط کرنے اور زیادہ جامع اور لچکدار ترقی کے لیے حالات پیدا کرنے کے قابل بنائے گا۔‘

حالیہ معاہدے کے تناظر میں ایک حالیہ رپورٹ میں موڈیز نے کہا کہ ’12 جولائی 2024 کو ’آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان 37 مہینوں کے لیے تقریباً سات ارب ڈالر کے توسیع یافتہ فنڈنگ پروگرام کے حوالے سے سٹاف لیول معاہدے سے فنڈنگ کے امکانات بہتر ہوئے ہیں لیکن پاکستان کے لیے لیکویڈیٹی کے خطرات کو کم کرنے کی غرض سے اصلاحات کو برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔‘

مزید کہا گیا کہ ’یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے تاہم اس پر ووٹنگ کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔ اگر منظوری مل جاتی ہے، جس کی ہمیں توقع ہے، تو نئے آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان کے فنڈنگ کے امکانات بہتر ہوں گے۔‘

موڈیز کے مطابق: ’اس پروگرام کے ذریعے آئی ایم ایف سے فنڈنگ ملے گی اور دیگر دوطرفہ اور کثیر الجہتی شراکت داروں کو پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔‘

تاہم یہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اصلاحات کے نفاذ کو برقرار رکھنے کی حکومتی صلاحیت پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کی مدت کے دوران مسلسل فنانسنگ حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، جس سے حکومت کی لیکویڈیٹی کے خطرات میں پائیدار کمی آئے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے نئے پروگرام میں دور رس اصلاحات کی شرائط شامل ہیں، جیساکہ ٹیکس کی شرح کو بڑھانے اور استثنیٰ کو ختم کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے کا مالیاتی استحکام بحال کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کرنا۔

دیگر اقدامات میں سرکاری اداروں کے انتظام اور نجکاری کو بہتر بنانا، زرعی امدادی قیمتوں اور متعلقہ سبسڈیز کو مرحلہ وار ختم کرنا، انسداد بدعنوانی، گورننس اور شفافیت میں اصلاحات لانا اور تجارتی پالیسی کو آہستہ آہستہ آزاد بنانا شامل ہیں۔

موڈیز کے مطابق: ’زیادہ ٹیکسوں اور مستقبل میں توانائی کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے روز مرہ زندگی کے اخراجات میں اضافے کے باعث سماجی تناؤ بڑھ سکتا ہے اور اس سے اصلاحات کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔‘

مزید کہا گیا: ’اس کے علاوہ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ مخلوط حکومت کے پاس مشکل اصلاحات کے مسلسل نفاذ کے لیے کافی مضبوط انتخابی مینڈیٹ نہیں ہے۔‘

مئی میں شائع ہونے والی آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 (جون 2025 تک) کے لیے پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات تقریباً 21 ارب ڈالر اور مالی سال 27-2026 کے لیے تقریباً 23 ارب ڈالر ہیں۔

پانچ جولائی تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر تھے جو اس کی ضروریات سے بہت کم ہیں۔ پاکستان کی بیرونی پوزیشن کمزور ہے اور اگلے تین سے پانچ سالوں میں بیرونی مالیاتی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔

موڈیز کے مطابق: ’ملک پالیسی کی خامیوں کا شکار ہے۔ کمزور حکمرانی اور معاشرے میں کشیدگی میں اضافہ حکومت کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے، جس سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جائزہ مکمل کرنے اور بیرونی مالی امداد حاصل کرنے کی حکومتی صلاحیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے چیدہ چیدہ نکات

  • معاشی استحکام کے لیے پاکستان کو ٹیکس آمدنی بڑھانی ہوگی۔
  • قرض پروگرام کے دوران جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا حصہ تین فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
  • پاکستان میں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں منصفانہ اضافہ ہوگا۔
  • پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
  • ریٹیل سیکٹر میں بھی ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے گا۔
  • پاکستان میں برآمدی شعبے سے بھی ٹیکس وصولیاں بہتر کی جائیں گی۔
  • پاکستان میں زرعی شعبہ بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔
  • صوبوں میں تعلیم اور صحت عامہ کے اخراجات بڑھانے ہوں گے۔
  • سماجی تحفظ کے لیے صوبوں کے اخراجات بڑھانے ہوں گے۔
  • صوبوں کو پبلک انفراسٹرکچر پر اخراجات بڑھانے ہوں گے۔
  • عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے صوبائی حصہ بڑھانا ہوگا۔
  • ٹیکس آمدنی بڑھانے کے لیے صوبوں کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔
  • صوبوں میں خدمات پر سیلز ٹیکس کی آمدن بڑھانی ہوگی۔
  • صوبوں کو زرعی آمدن پر انکم ٹیکس بڑھانے کےلیے قانونی سازی کرنی ہوگی۔
  • یکم جنوری 2025 تک وفاق اور صوبوں کو انفرادی اور کارپوریٹ انکم ٹیکس سے متعلق ضروری قانون سازی کرنی ہوگی۔
  • سٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو کرے گا۔
  • زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم بنانے کے لیے سٹیٹ بینک کو ایکس چینج ریٹ لچک دار رکھنا ہوگا۔
  • ایکس چینج ریٹ کے استحکام کے لیے فاریکس کاروبار میں شفافیت لازمی ہے۔
  • توانائی کے شعبے کے لیے  مالیاتی  رسک کو محدود کرنا ہوگا۔
  • توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے توانائی کی لاگت میں کمی کرنی ہوگی۔
  • سرکاری کارپوریشنز کی کارکردگی بہتر بنائی جائے۔
  • سرکاری کاپوریشنز کے انتظامی امور نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں۔
  • زراعت کے شعبے میں سبسڈی اور سپورٹ پرائس کو مرحلہ وار ختم کیا جائے۔
whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت