یوکرین کا روس پر امریکی لانگ رینج میزائل سے پہلا حملہ

جو بائیڈن کی جانب سے عائد پابندیاں ختم کیے جانے کے بعد یوکرین نے پہلی بار روس پر امریکی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے ہیں، جب کہ پوتن نے ’مناسب جواب‘ کی دھمکی دی ہے۔

14 دسمبر 2021 کو لی گئی امریکی محکمہ دفاع کی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں امریکی فوج کو نیو میکسیکو میں وائٹ سینڈز میزائل رینج میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم کے براہ راست فائر ٹیسٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

جو بائیڈن کی جانب سے عائد پابندیاں ختم کیے جانے کے بعد یوکرین نے پہلی بار روس پر امریکی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے ہیں۔

اس حملے پر ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ وہ ’مناسب‘ جواب دے گا۔ یہ صورت حال ایک ایسے دن پیش آئی جب ولادی میر پوتن نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے لیے کریملن کی حد کو مزید کم کر دی تھی۔

یوکرین نے سرحد سے تقریبا 80 میل (130 کلومیٹر) دور روس کے علاقے برائنسک پر حملے میں آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم (اے ٹی اے سی ایم ایس) کا استعمال کیا۔

روس کے نظرثانی شدہ جوہری نظریے کے مطابق، اب کسی بھی ملک کی جانب سے روس پر روایتی حملہ، اگر اس کی حمایت کسی جوہری طاقت رکھنے والے ملک کی ہوئی، روس پر مشترکہ حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ نظریہ، ان شرائط کی وضاحت کرتا ہے جن کے تحت روس کی قیادت ایٹمی حملے پر غور کر سکتی ہے، اور اس میں کہا گیا ہے کہ روایتی میزائلوں، ڈرونز، یا دیگر قسم کے طیاروں کا حملہ بھی اس کے جواب میں جوابی کارروائی کا جواز فراہم کر سکتا ہے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے اس تبدیلی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بدعنوان روسی حکومت‘ کی جانب سے ’غیر ذمہ داری کی تازہ ترین مثال‘ قرار دیا۔

روس کئی مہینوں سے اپنے جوہری نظریے کو اپ ڈیٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، لیکن پوتن کی جانب سے اس تبدیلی پر دستخط کا وقت جنگ میں ایک اہم اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ مسٹر بائیڈن کے اس فیصلے کے بعد کیے گئے جس کے تحت کیئف کو روس کے اندر حملے کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس میں 190 میل رینج کے اے ٹی اے سی ایم ایس میزائل شامل ہیں۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ یوکرین نے چھ اے ٹی اے سی ایم ز فائر کیے ہیں۔ امریکی حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ اے ٹی اے سی ایم ایس کا استعمال کرسک کے شمال مغرب میں واقع برائنسک میں گولہ بارود کے گودام کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے روسی اسلحے کے ڈپو کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کئی ثانوی دھماکے ہوئے ہیں۔ اس نے عوامی طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ اس نے کون سے ہتھیار استعمال کیے ہیں لیکن اس سے منسلک ٹیلی گرام چینل نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں دیکھایا گیا ہے کہ یوکرین میں ایک نامعلوم مقام سے امریکی فراہم کردہ اے ٹی اے سی ایم ایس میزائل داغے جا رہے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی فوج نے اے ٹی اے سی ایم ایس کے پانچ میزائلوں کو مار گرایا اور ایک کو مزید نقصان پہنچایا۔ وزارت نے کہا کہ ٹکڑے ایک نامعلوم فوجی تنصیب کے علاقے میں گرے۔ اس نے کہا کہ ملبے کے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی لیکن اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔


برازیل میں جی 20 سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا: ’اے ٹی اے سی ایم ایس کو رات بھر کئی بار استعمال کیا گیا ... یقینا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ (امریکہ) کشیدگی میں اضافہ چاہتے ہیں۔ اور امریکیوں کے بغیر، ان ہائی ٹیک میزائلوں کا استعمال، جیسا کہ پوٹن کئی بار کہہ چکے ہیں، ناممکن ہے۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’ہم اسے روس کے خلاف مغربی جنگ کے ایک نئے مرحلے کے طور پر لیں گے اور ہم اس کے مطابق رد عمل دیں گے۔‘

میزائل حملہ اُس وقت ہوا جب یوکرین نے جنگ کے 1,000 دن مکمل کیے، جس دوران محاذ پر لڑتے ہوئے فوجی تھک چکے ہیں، اس کے شہر فضائی حملوں سے محاصرے میں ہیں، یوکرینی علاقے کا پانچواں حصہ ماسکو کے قبضے میں ہے اور مغربی حمایت کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس آ رہے ہیں۔

امریکی حکام نے روس کی جانب سے شمالی کوریا کے فوجیوں کو جنگ میں مدد کے لیے تعینات کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر کرزک کے علاقے میں، جہاں تقریباً 50,000 روسی فوجیوں کا اجتماع ہے۔

روس کی جانب سے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کے حوالے سے ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ’ اس تنازعہ کے ختم ہونے کا سب سے تیز ترین طریقہ یہ ہے کہ روس اسے روک دے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ کے پاس اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے سٹورم شیڈو میزائل ہیں، جنہیں یوکرین روس کے اندر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، لیکن وہ عام طور پر ہدف بنانے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہیں آج تک صرف یوکرین میں روسی مقبوضہ علاقے میں استعمال کیا گیا ہے۔ روس کے اندر انہیں استعمال کرنے کی اجازت ابھی نہیں ملی ہے لیکن سر کیر نے کہا کہ برطانیہ ’یقینی بنائے گا کہ یوکرین کو جو کچھ بھی درکار ہو، وہ اسے فراہم کیا جائے گا، جب تک کہ یہ ضروری ہو تاکہ وہ ممکنہ طور پر مضبوط ترین پوزیشن میں ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’روس یوکرین میں جارح ہے اور آج وہ دن ہے جب تنازعے کو ایک ہزار دن مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ روسی جارحیت کے 1000 دن ہیں، 1,000 دنوں تک یوکرین نے اس جارحیت کا سامنا کیا اور ہم اس دوران کہہ چکے ہیں کہ ہم یوکرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

زیلنسکی نے کیئف میں ڈنمارک کے وزیراعظم میٹ فریڈرکسن کے ساتھ ایک بریفنگ کے دوران کہا، ’میرے خیال میں جوہری ہتھیاروں کے بارے میں بیانات کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ جرمنی بھی متعلقہ فیصلوں کی حمایت کرے۔‘

جرمن چانسلر اولاف شولز، جنہوں نے گذشتہ ہفتے صدر پوتن کے ساتھ ایک گھنٹے تک بات چیت کی تھی، یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹورس کروز میزائل فراہم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

قبل ازیں زیلنسکی نے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا روس میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی 11 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ فضائی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پوتن کو جنگ کے خاتمے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ 

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

 اس مبالغہ آرائی کے باوجود، کیئف کو یہ تشویش ہے کہ اسے ایک ایسے معاہدے میں پھنسایا جا سکتا ہے جس سے وہ روس کے زیر قبضہ علاقے  چھوڑنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جو کہ صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ نہیں کریں گے۔

حکام نے منگل کو کو کہا کہ یوکرین میں تین روز کے دوران تیسرے روسی حملے میں ایک شہری رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت کم از کم 12 افراد مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی رات شمالی سومی کے علاقے میں شاہیڈ ڈرون کے حملے میں ہلوکھیو قصبے میں ایک تعلیمی مرکز کے ہاسٹل کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو بچوں سمیت 11 لوگ زخمی ہوئے اور مزید لوگ ملبے کے نیچے پھنسے ہو سکتے ہیں۔

اتوار کو روس کے ایک بیلسٹک میزائل نے شمالی یوکرین کے علاقے سومی کے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 11 لوگ مارے گئے اور 84 زخمی ہو گئے تھے۔

 پیر کو روسی میزائل حملے کے نتیجے میں جنوبی بندرگاہ اوڈیسا میں اپارٹمنٹ میں آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جان سے گئے اور 43 زخمی ہو گئے تھے۔

زیلنسکی نے کہا کہ ’روس کا ہر نیا حملہ پوتن کے حقیقی عزائم کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جنگ جاری رہے۔ امن کے بارے میں باتیں ان کے لیے دلچسپ نہیں ہیں۔ ہمیں روس کو طاقت کے ذریعے ایک منصفانہ امن پر مجبور کرنا ہوگا۔‘

دوسری جانب جرمنی اور فن لینڈ نے کہا ہے کہ بحیرہ بالٹک میں سمندر کے اندر دو انٹرنیٹ کیبلز کو پہنچنے والے نقصان کو تخریب کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اتوار اور پیر ایک واقعے میں فائبر آپٹک مواصلاتی کیبلز کا ایک جوڑا کاٹ دیا گیا تھا جس سے ’فوری طور پر جان بوجھ کر نقصان پہنچنے کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔‘

فن لینڈ کی سرکاری سائبر سکیورٹی اور ٹیلی کام کمپنی سینیا کے مطابق ہیلسنکی کو جرمنی کی بندرگاہ روسٹاک سے ملانے والی 745 میل (1200 کلومیٹر) طویل کیبل نے پیر کی رات دو بجے کام کرنا بند کر دیا تھا۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا