فلسطین حامی مارچ پر متنازع بیان پر برطانوی وزیر داخلہ برطرف

سویلا بریورمین نے میٹروپولیٹن پولیس پر جانب داری کا الزام لگایا تھا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے مظاہروں کو روک رہی ہے مگر اس نے اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے بعد فلسطین کے حامیوں کو جلوس نکالنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ سویلا بریورمین کابینہ کے اجلاس کے بعد یکم نومبر 2022 کو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ سے باہر نکل رہی ہیں (اے ایف پی)

برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے پیر کے روز اپنی وزیر داخلہ سویلا بریورمین کو برطرف کر دیا ہے۔

برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق بریورمین کو اس وقت عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے میٹروپولیٹن پولیس پر جانب داری کا الزام لگایا تھا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے مظاہروں کو روک رہی ہے مگر اس نے اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے بعد فلسطین کے حامیوں کو جلوس نکالنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

فلسطین کے معاملے پر بریور مین نے سخت موقف اپنا رکھا تھا جس کی وجہ سے رشی سونک پر دباؤ پر اضافہ ہو گیا تھا۔

بریورمین پر الزام تھا کہ وہ برطانوی معاشرے میں تقسیم اور نفرت کے بیج بو رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ شروع ہی سے سخت بیان بازی کرتی رہی ہیں جس سے انہیں کٹر دائیں بازو کی حمایت تو حاصل ہوئی مگر زیادہ اعتدال پسند دھڑے ان سے الگ تھلگ ہو گئے تھے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید تلخ ہو گیا جب گذشتہ بدھ کو بریورمین نے برطانوی اخبار ’دا ٹائمز آف لنڈن‘ میں ایک آرٹیکل لکھا جس میں انہوں نے شہر کی مرکزی پولیس فورس پر الزام عائد کیا کہ وہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مارچ پر پابندی لگانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ہفتے کے روز لندن میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے عام مظاہروں میں شرکت کرنے والے ہزاروں افراد کو ’نفرت انگیز مارچ کرنے والے، (hate marchers)‘ ’اسلام پسند‘ اور ’ہجوم‘ قرار دیا حالانکہ یہ مظاہرے زیادہ تر پرامن رہے ہیں۔

اپنے مضمون میں بریورمین نے پولیس پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار میں ’دہرا معیار‘ اپنا رکھا ہے۔ 

انہوں نے لکھا کہ دائیں بازو اور قوم پرست مظاہرین جو جارحیت میں ملوث ہیں انہیں بجا طور پر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن تقریباً ایک جیسے رویے کا مظاہرہ کرنے والے فلسطینی حامی ہجوم کو بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی۔

وزیرِ اعظم رشی سونک کے ایک ترجمان نے اس آرٹیکل کی اشاعت کے بعد کہا تھا کہ اسے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر شائع کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے بریورمین کی جگہ جیمز کلورلی کو وزیر داخلہ مقرر کیا ہے۔

اپنی برطرفی کے بعد بریورمین نے کہا کہ ’ہوم سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے آنے والے وقت میں مزید کہنا ہے۔

سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منٹسر حمزہ یوسف نے ایکس پر ہفتے کے روز لکھا تھا ’ہوم سکریٹری نے کٹر دائیں بازو والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ انہوں نے اپنا ہفتہ تقسیم کے شعلوں کو بھڑکانے میں گزارا ہے۔ اب وہ جنگ بندی کے قومی دن کے موقعے پر پولیس پر حملہ کر رہی ہیں۔ وہ اب مزید کام نہیں کر سکتیں۔ انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔‘

حکمران کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی سویلا بریورمین برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، امیگریشن اور قومی سلامتی کی ذمہ دار رہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ