امریکہ نے پاکستان کی سرکاری دفاعی ایجنسی نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) اور دیگر تین تجارتی اداروں پر رواں ہفتے پابندیاں لگائی ہیں، جنہیں ماہرین نے ’امتیازی‘ اور پاکستان کے لیے ’بے معنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مقاصد ’سیاسی‘ ہو سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 18 دسمبر کو ایک اعلامیے میں جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کے لانگ رینج بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں پروگرام کی نگرانی کرنے والی سرکاری دفاعی ایجنسی نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس کے علاوہ ایفیلی ایٹس انٹرنیشنل، اختر اینڈ سنز اور روک سائیڈ انٹرپرائز نامی تین نجی تجارتی ادارے شامل ہیں۔
پاکستان نے 19 دسمبر کو امریکی پابندیوں کے فیصلے کو ’متعصبانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کا سٹریٹجک پروگرام 24 کروڑ عوام کی جانب سے اپنی قیادت کے لیے مقدس امانت ہے۔ جو سیاسی جماعتوں کے تمام حلقوں میں بلند ترین مقام رکھتی ہے اور کسی صورت بھی متاثر نہیں ہو سکتی۔‘
پاکستان کی سرکاری دفاعی ایجنسی نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس وزارت دفاع کے زیر انتظام ایک ادارہ ہے جو ملک کے میزائل ڈویلپمنٹ پروگراموں کا مرکز ہے۔
کیا امریکی پابندیاں پاکستان کے میزائل پروگرام پر اثر انداز ہو سکتی ہیں؟ انڈپینڈنٹ اردو نے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے مختلف ماہرین سے گفتگو کی۔
تخفیف اسلحہ و عدم پھیلاؤ کے امور کے ماہر سمجھے جانے والے سابق سفیر ضمیر اکرم نے ان پابندیوں کو ’امتیازی‘ لیکن ’بے معنی‘ قرار دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اداروں پر پابندی لگانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہمارا میزائل پروگرام ان پر منحصر نہیں۔ یہ پابندیاں امتیازی ہیں لیکن پاکستان کے لیے بے معنی ہیں کیونکہ اس شعبے میں ہمارا امریکہ کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’(ماضی میں) پابندیوں کے باوجود ایٹمی پروگرام کامیاب رہا تو میزائل پروگرام کوئی مسئلہ نہیں۔‘
ضمیر اکرم کے مطابق: ’یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے کسی سرکاری ادارے پر پابندی لگائی گئی ہو۔ اس سے قبل سپارکو اور نیسکام پر بھی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’یہ چھٹی مرتبہ ہے، جب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ایسا کیا ہے۔ یہ سابق صدر بل کلنٹن کے دور اقتدار سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔‘
دفاعی و جوہری امور تجزیہ کار شیریں مزاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہ پابندیاں اسرائیل کی ایما پر کی جا رہی ہے جن سے پاکستان پر زور ڈالا جائے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے۔
’امریکی پابندیاں ہمارے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گی کیونکہ ہم اپنے کسی بھی میزائل کے لیے امریکی یا مغربی ٹیکنالوجی کے کسی بھی جزو پر انحصار نہیں کرتے۔‘
شیریں مزاری کے مطابق، ’وائٹ ہاؤس کا یہ کہنا کہ ہمارے طویل فاصلے والے میزائل امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں، یہ بے وقوفی ہے اور واضح طور پر غلط معلومات پھیلانا ہے، لیکن اس کا براہ راست تعلق بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہ کرنے والے ملک اسرائیل سے جڑا ہوا ہے جو پاکستان کی جوہری طاقت سے خوفزدہ ہے۔
’لہٰذا امریکہ پاکستان پر دو معاملات پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے: ہمارا میزائل ترقیاتی پروگرام روکنا اور محدود کرنا اور اسرائیل کو تسلیم کرنا۔ یہ نئی بات نہیں ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے یہ مطالبات مسلسل کیے جاتے ہیں۔‘
سابق وزیر دفاع جنرل ریٹائرڈ نعیم لودھی سمجھتے ہیں کہ یہ پابندیاں ’سیاسی مقاصد‘ پر مبنی ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ پابندیاں لگانے سے امریکہ کو کیا حاصل ہو گا۔ ’یہ پابندیاں محض امریکہ کا موڈ بتاتی ہیں، ورنہ جب ہم ان کی باتیں مان رہے ہوتے ہیں تو بڑی بڑی چیزیں بھی گزر جاتی ہیں اور پابندیاں عائد نہیں ہوتیں۔‘
نعیم لودھی کے مطابق: ’یہ پابندیاں ملک کو فائدہ بھی پہنچاتی ہیں کیونکہ ایسی صورت حال میں ملک پھر متبادل ڈھونڈتے ہیں، یہ (اقدام) پاکستان کو مشرقی بلاک کی طرف دھکیل دے گا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’دنیا میں حالات کے پیش نظر امریکہ کو پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے چاہییں لیکن ہمیں دیکھنا ہو گا کہ یہ پابندیاں کیوں لگائی گئیں؟ کیا اسے کوئی رنگ دے کر پاکستان کو سزا دی جائے گی؟ کسی کو اسے آسان نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ سیاسی مقاصد پر مبنی پابندیاں ہیں۔‘
اس سوال پر کہ کیا یہ پابندیاں پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر اثرانداز ہو سکتی ہیں؟ سابق وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پابندیوں کے باوجود کامیاب ایٹمی پروگرام کا تجربہ کیا، میزائل ٹیکنالوجی ایٹمی ٹیکنالوجی سے زیادہ میسر ہے۔ اگر پابندیوں پر ہم ایسا کر سکتے ہیں تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، صرف بدمزگی پیدا ہو گی۔‘
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے پاکستان کے ساتھ دیگر شعبوں میں تعاون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے 19 دسمبر کو پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کے بارے میں ہمارے دیرینہ خدشات ہیں۔ اس کا ہمارے اور پاکستان کے درمیان تعاون کے دیگر شعبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
’پاکستانی ریاست پابندیوں کا براہ راست نشانہ‘
امریکہ میں واقع تھنک ٹینک ولسن سینٹر میں ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال کو ’بڑی پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مائیکل کگل مین نے کہا کہ ’پابندیوں کے لحاظ سے کم اور ان کے ہدف کے لحاظ سے یہ ایک زیادہ بڑی پیش رفت ہے۔‘
کوگل مین کے مطابق: ’این ڈی سی کوئی نجی کمپنی نہیں ایک سرکاری ادارہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی ریاست کو پابندیوں کا براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
کوگل مین نے مزید کہا کہ پابندیوں کا ہدف اور ان پر اسلام آباد کا فوری ردعمل بتاتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے آخری چند ہفتوں کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سے متعلق کوگل مین نے کہا کہ ’ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد چیزیں تبدیل ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔‘
کوگل مین نے پابندیوں سے میزائل پروگرام پر ہونے والے اثرات سے متعلق کہا کہ ان سے پاکستان کے میزائل پروگرام پر زیادہ اثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ’گذشتہ امریکی پابندیوں، جن میں حکومتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، نے ان کے ہتھیاروں کے پروگراموں کی گروتھ اور حجم پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔‘
پابندی کا نشانہ بننے والے ادارے کون سے ہیں؟
امریکہ کی جانب سے پاکستانی اداروں پر حالیہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت لگائی گئی ہیں، جس میں ایسے افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، جو ہتھیاروں اور ان کے ترسیلی ذرائع کے پھیلاؤ میں ملوث ہوں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا شکار ہونے والے ادارے نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی)، اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، افیلیئٹس انٹرنیشنل، اور راک سائیڈ انٹرپرائز ہیں۔
ان اداروں، جو بنیادی طور پر اسلام آباد اور کراچی میں واقع ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے میزائل پروگرام کے لیے خصوصی آلات اور مواد کی فراہمی میں کردار ادا کیا ہے۔
۔ نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) کو پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام، بشمول شاہین سیریز بیلسٹک میزائلز کی بہتری کا بنیادی ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ این ڈی سی نے میزائل لانچنگ سپورٹ اور ٹیسٹنگ آلات کے لیے خصوصی گاڑیوں کے چیسز حاصل کیے ہیں۔
سابق سفیر ضمیر اکرم کے مطابق این ڈی سی ملک کی میزائل اور ایرو سپیس صلاحیتوں کی ترقی کے لیے دفاعی ڈھانچے کا حصہ ہے اور اس کے ملازمین بنیادی طور پر سائنس دان، انجینیئر اور ٹیکنیشن ہیں۔
صوبہ پنجاب کے شہر ٹیکسلا میں واقع این ڈی سی تقریباً 30 سال پرانا ادارہ ہے جو دہرے مقاصد یعنی ’سول و ملٹری ٹیکنالوجیز‘ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سابق وزیر و سیکریٹری دفاع جنرل ریٹائرڈ نعیم لودھی کے مطابق: ’یہ ادارہ فائبر آپٹکس بنانے اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔‘
۔ اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ پر این ڈی سی کو مختلف قسم کا سامان فراہم کرنے اور میزائل پروگرام میں مدد دینے کا الزام ہے۔
۔ ایفیلیٹس انٹرنیشنل پر این ڈی سی اور دیگر اداروں کے لیے میزائل سے متعلق اجزا کی خریداری میں معاونت کا الزام ہے۔
۔ راک سائیڈ انٹرپرائز پر پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کے لیے اہم آلات فراہم کرنے کا الزام ہے۔
یہ پہلی پابندی نہیں!
امریکہ اس سے قبل بھی جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ، خاص طور پر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی پر مسلسل خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے اور اس سلسلے میں مختلف کمپینوں پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
رواں برس اکتوبر میں امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی نے مبینہ طور پر پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کرنے والی 16 کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا۔
ان میں سے مبینہ طور پر پاکستان کے لیے کام کرنے والی نو کمپنیوں کو ایڈوانس انجینیئرنگ ریسرچ آرگنائزیشن کے لیے فرنٹ کمپنیوں اور پروکیورمنٹ ایجنٹس کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے بلیک لسٹ کیا گیا جبکہ بقیہ سات کو پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مدد کی وجہ سے بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا۔
اپریل 2024 میں بھی امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کے الزام میں چار بین الاقوامی کمپنیوں پر پابندی لگا دی تھی۔ ان کمپنیوں میں سے تین کا تعلق چین اور ایک کا بیلاروس سے تھا۔
اس سے قبل اکتوبر 2023 میں بھی امریکہ نے تین چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی تھی، جن پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے تحت میزائلوں کی تیاری سے متعلقہ آلات فراہم کر رہی تھیں۔