صوبہ خیبر پختونخوا میں قبائلی ضلع کرم کی تحصیل لوئر کرم میں ہفتے کو امدادی سامان کی منتقلی کے دوران ایک سرکاری گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر (لوئر کرم) جاوید اللہ محسود سمیت سات افراد زخمی ہو گئے۔
صوبائی حکومت کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے تصدیق کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود بگن میں فائرنگ سے زخمی ہوئے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق ڈی سی کو زخمی حالت میں علیزئی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی ڈی سی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کرنے کے لیے بندوبست کیا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت لوئر کرم کے ایک سینیئر عہدے داد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دیگر زخمیوں میں تین ایف سی، ایک پولیس اہلکار اور دو شہری شامل ہیں۔
بیرسٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ ’سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امدادی سامان ضلع کرم لے جانے والے ٹرکوں کے قافلے کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔‘
وزیر اعلیٰ کا ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم
واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی مین گنڈاپور کی زیر صدارت ایک ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ سطحی حکام نے شرکت کی۔
پریس سیکریٹری وزیر اعلیٰ کے پی کے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس میں واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے امن معاہدے کے بعد علاقے کے لوگوں کو معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھرایا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ملزمان کو قانون کے حوالے کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
بیان کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ ’دہشت گردوں کی سروں کی قیمت مقرر کر کے اُن کا قلع قمع کیا جائے اور کسی دہشت گرد سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور نہ اُن کی معاونت کرنے والوں کو چھوڑا جائے گا۔‘
سامان پر مشتمل ٹرکوں کا قافلہ
خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت پر مشتمل 65 ٹرکوں کا ایک قافلہ آج کرم کے لیے روانہ ہونا تھا، جس سے علاقے کی 80 دن سے زیادہ طویل زمینی راستے کی بندش ختم ہونے کا امکان تھا۔
قافلے نے ضلع کوہاٹ میں چھپری سے ٹل پاڑہ چنار روڈ استعمال کرتے ہوئے سفر کرنا تھا، جو گذشتہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے کے دوران اس سڑک پر گاڑیوں کی پہلی آمد و رفت ہوتی۔
کرم پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر سمیت ضلعی پولیس افسر اور دیگر ضلعی افسران کرم کے داخلی راستے پر چپری چیک پوسٹ جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ امدادی سامان پر مشتمل ٹرکوں کا قافلہ آ رہا تھا اور گاڑیاں چھپری پر کھڑی تھیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق: ’یہ افسران کمشنر کوہاٹ اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کا انتظار کر رہے تھے تاکہ ٹرکوں کا قافلہ کرم میں داخل ہو سکے۔‘
بیرسٹر سیف نے، جو قافلے کی روانگی کے لیے کوہاٹ میں موجود ہیں، گذشتہ روز ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ قافلے کی حفاظت کے لیے اقدامات سمیت تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا ’75 بڑی گاڑیوں پر مشتمل قافلہ سکیورٹی حصار میں کرم روانہ کیا جائے گا اور قافلے میں 22 ویلر، 10 ویلر اور چھ ویلر ٹرک شامل ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ ٹرکوں میں ادویات، گیس سلینڈرز اور دیگر سامان لدے ہوئے ہوں گے۔‘
بیرسٹر سیف کے مطابق: ’پانچ ٹرک ادویات، 10 سبزیوں، نو گھی اور خوردنی تیل، پانچ آٹے، سات چینی، دو گیس سلینڈرز اور 26 دیگر ضروریات کی اشیا سے بھرے ہوئے ہیں۔‘
’واقعہ امن معاہدے کو نقصان پہچانے کی کوشش‘
وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش‘ قرار دیا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا: ’امن و امان میں خلل ڈالنے والوں اور انسانیت کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور حکومت اور سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔‘
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے گورنر ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا: ’حملے میں ڈپٹی کمشنر کا زخمی ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعات کی مذمت کی ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک بیان میں امن معاہدے کے بعد اس واقعے کا رونما ہونا امن کے قیام کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ لیکن ناکام کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ واقعہ ان عناصر کی کارستانی ہے جو ضلع کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے، تاہم صوبائی حکومت کرم میں امن کی بحالی اور عوام کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’فریقین کے درمیان معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کرم کے لوگ پرامن ہیں اور وہ علاقے میں امن چاہتے ہیں، لیکن کچھ شرپسند عناصر کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے۔ ان عناصر کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور علاقے کے لوگ مل کر ایسے شرپسند عناصر کی مذموم کوششوں کو ناکام بنائیں گے۔
بیان کے مطابق: ’صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کے تعاون سے علاقے میں مکمل امن کی بحالی تک کوششیں جاری رکھے گی۔‘
دھرنے اور احتجاج جاری
ضلعے کے ایک بڑے شہر پاڑہ چنار میں سڑکوں کی بندش کے خلاف مقامی پریس کلب کے باہر جاری دھرنا تاحال جاری رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دھرنے کے منتظمین نے فیصلہ کیا ہے کہ زمینی راستوں کے مکمل طور پر کھلنے اور محفوظ بنائے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔
دوسری طرف لوئر کرم کے علاقے بگن میں بھی ایک الگ احتجاج بھی جاری ہے جس میں گھروں اور بازاروں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے جنوب میں ضلع کرم کی مرکزی شاہراہ ٹل پارہ چنار روڈ گذشتہ کئی مہینوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے آمد و رفت کے لیے بند تھی، جسے گذشتہ سال نومبر میں سکیورٹی فورسز کی حفاظت میں گاڑیوں کے قافلوں کے لیے کھولا گیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم 21 نومبر 2024 کو لوئر کرم سے آنے والی گاڑیوں کے ایک قافلے پر مسلح حملے میں 40 سے زیادہ افراد جان سے چلے تھے، جس کے بعد اگلے ہی روز مشتعل مظاہرین نے لوئر کرم کے مرکزی بازار بگن میں دکانیں اور قریبی گھر نذر آتش کر دیے اور 100 سے زائد اموات کے بعد علاقے میں فریقین کے مابین کشیدگی بڑھ گئی۔
حالات خراب ہونے کے باعث ضلعی انتظامیہ نے ٹل پاڑہ چنار روڈ کو ایک مرتبہ پھر بند کر دیا، جس کے باعث ضلع کے دور دراز علاقوں میں ادویات، کھانے پینے اور دیگر اشیائے ضروریات کی قلت پیدا ہوئی۔
اس صورت حال میں فلاحی اداروں ایدھی، جعفریہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ سیل ویلفیئر آرگنائزیشن (جے ڈی سی) اور الخدمت فاؤنڈیشن نے لوگوں تک بنیادی ضروریات زندگی اور ادویات پہنچانے کے لیے سرگرمیاں شروع کیں۔
اس تنازعے پر خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کی سربراہی میں ایک جرگہ تشکیل دیا تھا اور اسی جرگے کی کوشش سے یکم جنوری 2025 کو فریقین کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور گرینڈ کرم جرگہ کے کنوینر بیرسٹر محمد علی سیف نے فریقین کے معاہدے پر دستخط کرنے کی تصدیق کے ساتھ کہا تھا کہ دونوں اطراف اسلحے کی حوالگی اور بنکرز کی مسماری پر متفق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’معاہدے کے مطابق اسلحہ جمع کرنے کے لیے دونوں فریق 15 دنوں کے اندر اندر مربوط لائحہ عمل دیں گے، جب کہ علاقے میں اسلحے کی آزادانہ نمائش اور استعمال پر پابندی ہو گی۔
بیرسٹر سیف کے مطابق اسلحہ خریدنے کی غرض سے کسی کو چندہ جمع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، جب کہ معاہدے کے مطابق فریقین کی جانب سے کسی بھی قسم کے بنکرز کی تعمیر پر پابندی ہو گی۔
’معاہدے کے تحت علاقے میں پہلے سے موجود بنکرز ایک مہینے کے عرصے میں ختم کیے جائیں گے اور بنکرز کی مسماری کے بعد لشکر کشی کرنے والے فریق کو ’دہشت گرد‘ سمجھ کر اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
ضلع کرم میں 2007 سے 2011 کے درمیان ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات کے دوران مری میں فریقین کے مابین ایک معاہدہ ہوا تھا، جسے ’مری معاہدہ‘ کہا جاتا ہے۔
حالیہ گرینڈ جرگے کے معاہدے میں ایک نکتہ یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ ’مری معاہدہ‘ اپنی جگہ قائم رہے گا۔
تاہم معاہدے کے مطابق فاٹا انضمام کے بعد قبائلی اضلاع حالات کے مطابق معروضی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مری معاہدے پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔